جیل میں رانا ثناء اللہ کی جان کو خطرہ ہے، اہلیہ رانا ثناءاللہ

نیوزون کے خصوصی پروگرام “پرائم ٹائم ودتھ ٹی ایم” میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنما راناثناء اللہ کی اہلیہ نبیلہ ، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما نفیسہ شاہ اور، معاون وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نوازاعوان نے شرکت کی۔

میزبان طارق محمود کے مختلف سوالات کا جواب  دیتے ہوئے رانا ثناءاللہ کی اہلیہ نے کہا کہ آج ساڑھے 12 بجے ملاقات کاوقت دیاگیا اور ہماری ان سے ملاقات کرائی گئی ۔ رانا ثنااللہ کو 2 آدمی پکڑ کر لا رہے تھے، وہ کانپ رہے تھے اور ان سے بات نہیں کی جارہی تھی، راناثنااللہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی، گزشتہ رات ان کی طبیعت خراب رہی، رات کوسروسزاسپتال کے ڈاکٹرز نے راناثنااللہ کا چیک اپ کیا اور مجھےنہیں لگ رہاکہ  راناثنااللہ کی طبیعت سنبھلی ہوگی،راناثنااللہ کوسونےکےلیےصرف ایک چادرمیسرہے۔

انہوں نے کہا کہ راناثنااللہ ہارٹ کےمریض ہیں،انہیں سانس نہیں آرہی تھی،جیل میں راناثنااللہ کی جان کوخطرہ ہے اور جیل میں ان پرحملہ ہوسکتا ہے، انھیں کھانے میں کچھ ملاکربھی دیاجاسکتاہے، اب ہماری ملاقات منگل کے روزہی ہوگی۔

رانا ثناء اللہ کی اہلیہ نے کہا کہ نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں دی جارہی ہیں اور مجھے میڈیا پر راناثنااللہ سے متعلق بات کرنے سے روکا جا رہا ہے اور مزیدمقدمات کھولنےکی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں، مجھے اےاین ایف حکام میڈیاپربات کرنے سے روک رہے ہیں ، میں نے رانا ثنااللہ کی گرفتاری سےمتعلق خبرٹی وی پردیکھی اور ان کی گرفتاری کے وقت کوئی ویڈیونہیں بنی جب کہ پولیس والے میرے گھرسےسی سی ٹی وی اورکمپیوٹرزاٹھاکرلےگئے ہیں۔

اہلیہ نبیلہ نے کہا کہ راناثنااللہ کبھی فیملی کےہمراہ سفرنہیں کرتےتھے، ہم نےکبھی راناثنااللہ کےساتھ گاڑی میں سفرنہیں کیا، میں بلٹ پروف گاڑی میں سفرنہیں کرتی اور ہم ہمیشہ الگ گاڑیوں میں آتے جاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کا فیصلہ عدالتوں نےکرناہے، مجھے پورایقین ہے، راناثنااللہ نے پروڈکشن آرڈر نکلوانے کا سختی سے منع کیاہے، زندگی میں پہلی بارکیمرےکےآگےآئی ہوں، مسلم لیگ ن کی قیادت مجھ سےرابطےمیں ہیں اورکل شہبازشریف، شاہدخاقان ملاقات کے لیے گھرآئےتھے۔

پروگرام میں شامل پیپلزپارٹی کی رہنما نفیشہ شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان سمیت ان کے حواریوں کو بھی دیواروں کے اندر نظرآتا ہے، انہیں کیسے پتاچلاکہ یہ بےنامی جائیدادہے؟ اپنےاعمال دیکھتےنہیں،دوسروں پرالزام لگاتےہیں، آصف زرداری کی تمام جائیدادیں ڈکلیئرڈہیں، کل میں بھی کہہ سکتی ہوں کہ یہ5جائیدادیں نعیم الحق کی ہیں۔

پروگرام میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دفعہ 188 کے تحت میں خود10دن جیل میں رہا، پاکستان کی مختلف جیلوں میں86ہزارافرادقیدہیں، نوازشریف سزایافتہ مجرم ہیں اور ان کے لیے 21 کارڈیالوجسٹ کو رکھا ہوا ہے، نوازشریف دل کے مریض ہیں ان کا کھانا گھر سے آتا ہے۔

علی نوازاعوان نے کہا کہ جو کھانا نوازشریف کھاتے ہیں وہ دل کے مریض نہیں کھاتا، انتقامی کارروائی کرنی ہوتی تو انہیں یہ سب سہولیات نہ ملتی، راناثنااللہ کےساتھ سلوک عام قیدی جیسارکھاجائےگا، راناثنااللہ سےمنشیات برآمدہوئی ہے، عدالتیں آزادہیں،اگرغلط کیس بنا ہے توعدالت جاسکتےہیں، ملک میں غریب اورامیرکےلیےالگ الگ قانون ہے، ملک میں پیداہونےوالےبچےپرایک لاکھ 41ہزارکامقروض ہے، یہ اپنے دورمیں اپنےعلاج کےلیےاسپتال تک نہ بنواسکے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ وائٹ کالرکرائم کوپکڑنابہت مشکل ہوگیاہے، آصف زرداری نے اپنے اثاثے 64 کروڑ کے ڈکلیئرڈ کیے،بلاول بھٹوکےاثاثوں کی مالیت ڈیڑھ سوارب روپےسےزائد ہے، پہلے جعلی اکاؤنٹس کھلتے تھے، پیپلزپارٹی نےجعلی بینک بناناشروع کردیے، پنجاب،کےپی میں پی پی والوں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں ہیں، پی پی والوں نےروٹی،کپڑااورمکان سمیت پانی تک چھین لیا،اب گرفتاریوں کاسلسلہ مزیدتیزہوگا،کسی کونہیں چھوڑیں گے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay