آئی ایم ایف اور پاکستان

تحریر |علمدار حیدر

آئی ایم ایف نے ایک بار پھر پاکستان کوچھ ارب ڈالر کا قرض منظور کر لیا جبکہ پاکستان اس سے قبل اپنے دوست ممالک چین سعودی ارب عرب امارات اور قطر سے اپنے معاشی بحران کو دور کرنے کے لئے مدد لے چکا ہے ۔

ماضی میں پاکستان متعدد بار اپنی اقتصادیات کو بہتر کرنے کے لئے بین الاقوامی اداروں سے قرض لے چکا ہے جنکی ادائیگی کے لئے تحریک انصاف کی حکومت شدید مشکلات سے دوچار ہے قرضوں کی ادئیگی کے لئے گیس پیٹرولیم مصنوعات گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ موجودہ بجٹ میں ان گنت اشیا پر ٹیکس میں ا ضافہ کر دیا گیا ہے جسکی وجہ سے عوام کی معاشی صورتحال ناقابل بیان حد تک خراب ہو چکی ہے اور انکی قوت خرید شدید طور پر متاثر ہوگئی ہے جس کے لئے موجودہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس کے زریعے عوام کی زندگی کو درپیش مالی معاملات درست ہو ں۔

آئی ایم ایف سے قرضوں کی منظوری کے بعد پاکستان کو بین الاقوامی طور پر بہت سی سہولیتیں حاصل ہو جائیں گی ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کا مسئلہ ٹل جائے گا ، امپورٹ ایکسپورٹ میں آسانی ہو جائے گی ورلڈ بینک ایشین ڈیولپمنٹ اور دیگر فنانشل اداروں سے مالی سپورٹ حا صل کرنے میں بھی آسانی ہو جائے گی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ما ضی کی حکومتوں نے بھی آئی ایم ایف سے قرض لئے لیکن ملک کی اقتصادیات میں بہتری کیوں نہیں آئی اس کی وجہ یہ ہے پچھلی دو سویلین پاکستان پیپلز اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتوں نے آئی ایم ایف سے وصول ہونے والی رقوم کا کس طرح استعمال کیا۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق دونوں حکومتوں نے آئی ایم ایف کی امداد کو ملکی ترقی کے بجائے منی لانڈرنگ کےلئے استعمال کیا یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کی جانب سے ہونے والے معاہدے کی شرائط کی بھی خلاف ورزی کی۔

عمران خان نے جن افراد کو شعبہ مالیات میں رکھا ہے وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں کام کر چکے ہیں اس وجہ سے زیادہ امکان ہیں کہ وہ معاہدے کی شرائط پر من و عن عمل درامد کریں گے دوسری اہم بات یہ ہے تحریک انصاف بالخصوص وزیر اعظم عمران خان خود کرپشن اور منی لانڈرنگ کے شدید مخا لف ہیں لہذا آئی ایم ایف سے وصول کی جانے والی رقم کا درست استعمال کیا جائے گا۔

اپوزیشن عمران حکومت پر یہ تنقید کر رہی ہے کہ انھوں نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں دیر کی یہ کام اگر پہلے ہوجاتا تو بہتر تھا اپوزیشن یہ بھی کہتی ہے موجودہ حکومت کے پاس اقتصادی ماہرین کی کمی ہے بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان میں آئی ایم ایف کے حوالے سے دو ارا پائی جاتی ہیں۔

عمران خان کے ماہرین اقتصادیات بھی دو ارا میں بٹے ہوئے تھے بعض کی ارا تھی کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جایا جائے اور بعض جانا چاہتے تھے اس وجہ سے دیر ہوگئی جسکا نقصان پاکستا نی معیشت پر پڑا۔

اقتصادی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان سی پیک کے معاہدے کی وجہ سے اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوجائے گی اسی وجہ سے سی پیک کو گیم چینجر کہا جارہا ہے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کے بعد پاکستانی معیشت کو بہتر ہونا ناگزیر ہے یہی وجہ ہے عمران خان خان بہت پر امید ہیں کہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہوجائے گا۔

حالیہ بجٹ میں غریب طبقے کے روزگار اور ہاوسنگ کے لئے بہتر منصوبے رکھے گئے ہیں دوسری اطلاع یہ ہے جن فیصلوں سے غریب اور متوسط طبقے کو مالی دشواریاں ہورہی ہیں ان میں ترامیم کیا جائیں تاکہ ملک ایک فلاحی ریاست بن جائے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay