سیاسی صورتحال کا تجزیہ

[mashshare]

| تحریر علمدار حیدر|

پاکستان اس وقت معاشی بحران سے نکلنے کی کوششیں کر رہا ہے آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے والا ہے روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر سنبھل رہی ہے ۔

معاشی بحران کے بارے میں حکو مت کا موقف یہ ہے کہ پچھلی دو حکومتوں کے لئے گئے بھاری قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے حکومت ٹیکسوں میں اضافے پر مجبور ہے جبکہ اپوزیشن پارٹیاں مہنگائی کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو قرار دے رہی ہیں ۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے کرپٹ عناصر کی احتساب کی کاروائیاں غیر موثرکرنے کے لئے اپوزیشن پارٹیاں یکجا ہو کر دباؤڈال رہی ہیں کہ حکومت کرپشن کے خلاف مہم کو ترک کردے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے گرفتاری کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ حساب کتاب چھوڑو آگے کی بات کرو ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کو ہر صورت سے ہٹانا ضروری ہے۔

 انھوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر موجودہ حکومت گرادی جائے تو پھر کون اس کا متبادل ہوگا، کیا امریت مسلط ہو جائے گی ،آصف زرداری ،میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی کوشش یہ ہے کسی نہ کسی طرح اسمبلی سے عدم اعتماد کامیاب کراکے حکومت سے جان چھڑائی جائے اپوزیشن کو اندازہ ہے کہ وہ عوام کو سڑکوں پر لانے کی پوزیشن میں نہیں اور اسٹریٹ ایجیٹیشن کے ذیعے حکومت کو اتارنا ممکن نہیں ۔

اس وقت اپوزیشن کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنما وں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ بے نامی اکاونٹس کے الزام میں گرفتاریاں ہونے والی ہیں۔

نیب نے تحقیقات کر کے نام فائنل کر لئے ہیں سندھ حکومت کے وزیر اعلیٰ وزرا اور بیورو کریٹس کی بڑی تعداد اس فہرست میں شامل ہے عوام کو یہ معلوم ہوچکا ہے گرفتار کئے جانے والوں نے قومی دولت لوٹی ہے اور جب احتساب کیا جائے تو جمہوریت اور انسانی حقوق کی پامالی کا رونا شروع کر دیتے ہیں اس وجہ سے عوام سڑکوں پر آنے کے لئے تیار نہیں ۔

مسلم لیگ (ن) اس وقت دوہرا کھیل کھیل رہی ہے ایک طرف مریم نواز حکومت کے خلاف تیز بیانات دے رہی ہے اور دوسری جانب شہباز شریف سمجھوتا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری مریم نواز کے ساتھ مل کر حکومت کے خلا ف تحر یک چلانے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف آصف زرداری کہہ رہے ہیں حساب کتا ب چھوڑوآگے کی بات کرو ۔

باوثوق ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ دونوں بڑی پا رٹیوں کے رہنما مشروط طور پر لوٹی ہوئی رقم واپس کرنے پر آمادہ ہیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان کا یہ موقف ہے کہ نواز اور زرداری لوٹی ہوئی دولت واپس کرکے جہاں جانا چاہتے جائیں وہ قومی دولت لوٹنے والوں کو سزائیں دینا چاہتے ہیں تاکہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو سکے۔

محسوس یہ ہورہا ہے وزیر اعظم عمران خان کے رویئے میں لچک پیدا ہو رہی ہے اس حوالے سے جلد ہی یہ بات سامنے آجائے گی کہ کرپشن فری پاکستان کا نعرہ لگانے والے کامیاب ہیں یا کرپٹ عناصر کوئی این ار او لینے میں کا میاب ہو جاتے ہیں ۔

عدالت نے میاں نواز شریف کی جانب سے علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی درخوا ست ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ جب پاکستان میں ان کو لاحق ہر بیماری کا علاج ہو سکتا ہے تو بیرون ملک جانے کے کوئی جواز نہیں بنتا ہے ۔

عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ میان نواز شریف کے بیٹوں نے دو ممالک سے رابطہ کر کے اپنے والد کی رہائی کی درخواست کی ہے ان ممالک کا انھوں نے نام نہیں بتایا لیکن یہ ضرور کہا کہ یہ ممالک ان کے موقف سے واقف ہیں۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی پاکستان لائے جارہے ہیں جو میاں نواز شریف کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا پول کھول دیں گے ہو سکتا ہے اس خوف سے بھی میاں صاحب بیرون ملک جانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔

بطور سینیئر صحافی میں سمجھتا ہوں اگر موجودہ حکومت کرپٹ عناصر کو خواہ وہ سیاستدان ہوں بیوروکریٹ ہوں تاجر ہوں یا مذہبی رہنما کو سزا دلوانے میں کا میاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay