فلمی صنعت کی ترقی ضروری ہے

تحریر : علمدار حیدر

فلم ، ڈرامے اور تھیٹر دنیا بھر میں ابلاغ کے سب سے زیادہ موثر ذرائع ہیں انقلابی شاعر و دانشور فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ جس طرح فلم کے ذریعے انسانوں تک اپنی بات پہنچائی جاسکتی اس سے زیادہ اور کوئی موثر ذریعہ نہیں ۔

فلم میں ادب کے اعلیٰ ناولز، افسانے ،شاعری ،موسیقی ،مصوری اور ہر فن استعمال ہوتا ہے فیض احمد فیض بہت مقبول شاعر تھے ان کی شاعری اکثرفلموں میں استعمال کی گئی ہے انھوں نے ‘جاگو ہوا سویرا ’نام سے فلم بھی پروڈیوس کی تھی۔

قیام پاکستان کے بعد بھارت سے تربیت یافتہ فلم کے پروڈیوسر ڈائریکٹر کیمرہ آپریٹرز اور ٹیکنیشینز جو پاکستان آئے انھوں نے کم وسیلے سے فلمیں بنانا شروع کیں اور کم عرصے میں بھارت کی بنی ہوئی فلموں کے مقابل لا کھڑا کیا۔

انیس سو پچاس سے انیس سو سستر تک پاکستانی فلمی صنعت نے اعلیٰ درجے کی کامیاب فلمیں بنائیں جن کی کہانی ،موسیقی اورفوٹوگرافی کا معیار بھارتی فلموں سے کم نہیں تھا۔ انتظار، وعدہ، نوکر، ناگن، شہید، فرنگی ، فرشتہ، بھروسہ، آگ کا دریا، چکوری، خاموش رہو، یہ امن، کنیز، ارمان، دل لگی، آئینہ اور آدمی چند ایسی فلمیں ہیں جو اداکاری، کہانی، موسیقی، مکالموں اور فوٹوگرافی میں اعلیٰ معیار کی چند کامیاب فلمیں ہیں۔

انیس سو سستر کے مارشل لا کے بعد جنرل ضیا نے مذ ہب کو اپنا بیانیہ بناکر فلم، ادب ،شاعری اور موسیقی کو بھی ملک کی طرح پابند سالاسل کردیا۔ فلمی صنعت سے وابستہ تعلیم یافتہ لوگ آہستہ آہستہ فلم انڈسٹری چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور فلمی صنعت پر کم پڑھے لکھے لوگوں کا قبضہ ہوگیا۔

فلموں کی تعداد بھی کم ہو گئی ملک بھرکے ہزاروں سینیما ہاوسز شاپنگ پلازوں میں تبدیل ہوگئے، ماضی میں سنتوش کمار ،درپن، کمال، حبیب، علاوالدین ،طالش، محمد علی، وحید مراد، ندیم اور شاہد جیسے اداکاروں کی فلمیں لوگ دیکھنے آتے تھے ۔

اس دوران ٹیلی ویژن نے بہت ترقی کی اور پرائیویٹ سیکٹر میں ٹیلی ویژن چینلز کے قیام کے بعد پاکستانی ڈرامے عوام کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

ٹی وی چینلز سے شہرت حاصل کرنے والے فنکاروں اور کچھ ٹی وی چینلز نے فلمی صنعت کو دوبارہ فروغ دینے کی کوششیں شروع کردیں، جس کے نتیجے میں چند سالوں سے کچھ اچھی فلمیں جن کی کہانی، اداکاری، فوٹو گرافی اور اداکاری معیاری تھی اور وہ کامیاب بھی ہوئیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی فلمی صنعت کی ترقی حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں اب سینیما کلچر ماضی جیسا نہیں رہا آج سینیما ہاؤسز کی تعداد کم ہوگئی ہے، سینیما کے ٹکٹ مہنگے ہو گئے ہیں ،عوام کی واحد تفریح اب سینیما نہیں رہا ہے ،لائف اسٹائل بدل گیا ہے لوگوں کو سینیما تک لانے کے لئے ماضی کی طرح اچھی تفریحی میٹر کے ساتھ اچھی کہانیوں اچھے انقلابی موضوعات پر فلمیں بنانی پڑیں گی سب سے اہم مسئلہ سنسر کوڈ کی تبدیلی ہے۔

سماج میں موجود حساس موضوعات کو فلمانے کی اجازت ضروری ہے پاک بھارت تعلقات طویل عرصے خراب ہیں اس کے باوجود ہمارے سینیماگھروں اور ٹی وی چینلز پر بھارتی فلموں کی نمائش ہوتی رہی ہے آج کل ان پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن ہماری فلمی صنعت ابھی اس قابل نہیں ہوئی ان کی جگہ لے سکیں اس وقت فلموں کی تعداد کم ہے جنہیں ڈیمانڈ کے مطابق بڑھانا پڑے گا۔

سنہ90 کی دہائی میں جس طرح شان ،ریما ،بابر علی ریمبو ،صا حبہ ،معمر رانا ،نیلی ، صائمہ،انجمن ، سلطان راہی ، جاوید شیخ ہدایتکار سید نور ، شمیم آرا اور سنگیتا نے نوجوان نسل کی پسند ، معیار اور ڈیمانڈ کو مد نظر رکھتے ہو ئے اس ہی طرح دوبارہ اچھی اور معیاری فلمیں بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔خدا کے لیے ، بول ، یہ دل آپ کا ہوا ، رنگ نمبر 1 اور 2 ،لوڈ ویڈنگ ، ایکٹر ان لا نامعلوم افراد ، کراچی سے لاہور ، لاہور سے آگے ،پنجاب نہیں جاؤں گی ، سات دن محبت ان ، تیفا ان ٹربل ، کیک اور لال کبوتر جیسی کامیاب اور دلچسپ فلموں نے لوگوں کو ایک بار پھر سینیما آنے پر مجبور کیا ۔

اس وقت ہماری موجودہ فلمی صنعت میں شان، ہمایوں سعید، فواد خان، فہد مصطفیٰ ،حمزہ عباسی مہوش حیات ، نیلم منیر اور مائرہ خان وغیرہ (اگر میں کسی کا نا بھول رہا ہوں تو معذرت ) بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔

نئی آنے والی فلموں باجی ، مولا جٹ اور سپر اسٹاروغیرہ سے امید کی جارہی ہے کہ وہ پاکستانی سنیما میں سنگ میل کا کام کریں گی اور انٹرنشنل مارکیٹ میں پاکستانی فلموں اور فنکاروں کی مانگ میں اضافہ کر سکیں گی ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay