کراچی کے ایسے مسائل جنکاحل فوری ضروری ہے

تحریر: علمدار حیدر

پاکستان کا پہلا دارالخلافہ اور اب صوبہ سندھ کا دارالخلافہ کراچی جن مسائل سے دوچار ہے اس کا ادراک وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں کو ہے ان مسائل کے حل کے لئے مختلف منصوبے ضرور بنتے ہیں لیکن اس پر عمل درامد کم ہی ہوتا ہے یہ سلسلہ طویل عرسے سے جاری ہے یہاں کے بلدیاتی ادارے فنڈز کی کمی کا رونا روتے ہیں اور شہر کے مسائل میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

کراچی جسکی آبادی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے یہاں اندرون ملک سے ہزاروں لوگ روزانہ آتے ہیں اور کچی اور پکی آبادیوں میں سما جاتے ہیں جبکہ سرکاری طور پر یہاں کی آبادی صرف ڈیڑھ کروڑ ہے جبکہ لوگوں کا یہ کہنا ہے اب کراچی تین کروڑ انسانوں کا شہر ہے جسکی وجہ سے آدھی آبادی کے ترقیاتی فنڈز مختص کئے جاتے جو شہر کی ضرورتوں کے لئے ناکافی ہیں ۔

ان دنوں کراچی شہر کے عوام پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں جسکی وجہ سے ٹینکر مافیا ضرورتمندوں سے من مانے دام وصول کررہا ہے صوبائی حکومت پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے صرف لپ سروس کر رہی ہے ماضی میں کراچی کے لیےبنایا گیا کے فور منصوبہ کرپشن اور بد دیانتی کا شکار ہوکر کھٹائی میں پڑا ہوا ہے کے فور کے منصوبے کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور پہلے وہ ریاض ملک کے بحریہ ٹاون سے کراچی آئے گا۔

گزشتہ انتخابات میں کراچی سے تحریک انصاف کو زیادہ قومی اور صوبائی نشستیں ملی ہیں تحریک انصاف نے متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اتحاد بنایا ہوا ہے وفاقی حکومت میں ان کے پاس تین وزارتیں بھی ہیں، متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی کے دیرینہ مسائل کو پیش بھی کیا ہے وفاق نے کئی منصوبوں کی اپروول بھی دے دی ہے ان منصوبوں میں کراچی والوں کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹ کا منصوبہ بھی شامل تھا لیکن اس منصوبے کا اب کہیں ذکر نہیں ہورہا ہے کراچی کے پانی کا مسئلہ کسی حد تک ڈی سیلینیشن پلانٹ سے مستقل طور پر حل ہوسکتا ہے تحریک انصاف کو کراچی سے ملنے والے مینڈیٹ کا خیال کرتے ہوئے یہاں کے اہم مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات کرنا چاہئے۔

کراچی کے عوام کا دوسرا اہم مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے صوبائی حکومت نے کراچی کے بسین چلانے کا منصوبہ دیا تھا لیکن یہ مسئلہ بھی جوں کا توں ہے کسی زمانے میں شہر میں تیس ہزار منی بسیں مختلف روٹس پر چلتی تھیں لیکن اب ان کی تعداد صرف نو ہزار رہ گئی ہے رات کے وقت اب تمام روٹس پربہت کم منی بسیں نظر آتی ہیں، چنگچی رکشوں اور رکشوں میں عوام سفر کرنے پر مجبور ہیں اوبر اور کریم کی کار سروس چلنے سے جو سہولیت حاصل ہوئی تھی اسے اتنا مہنگا کردیا گیا ہے کی نچلہ درمانی اور درمانی طبقہ اس کو افورڈ نہیں کر سکتا، پیٹرول سی این جی اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بسوں کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں لوگ منی بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

حکومت سندھ کو چاہئے کہ بسوں کو وعدے کے مطابق فوراً چلائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لیں لالو کھیت، ناظم اباد، نیو کراچی اورسرجانی کے روٹ پر چلنے والی نجی مالکان کی بسوں کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہوچکی ہے ان خستہ حال بسوں کی تعداد بھی دن بدن گھٹتی جارہی ہے یہ بسیں خستہ حال ہو چکی ہیں ان روٹس پر بھی نئی بسوں کو چلانا ضروری ہے پبلک ٹرنسپورٹ کی کمی کی وجہ سے شہر قائد میں موٹر سائیکلوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے یہ ایسی خطر ناک سواری ہے جسے اہلیانِ کراچی بڑی لا پرواہی کے ساتھ چلاتے اور حادثات کا شکار ہوتے ہیں ۔ بے وجہ انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ اب ٹریفک جام کا مسئلہ صرف مین شاہراہوں تک محدود نہیں رہا اب کراچی کے ہر علاقے میں ٹریفک جام معمول بن چکا کنٹرول کرنے کے ٹریفک پولیس کی تعداد نا کافی ہے افسوسناک بات یہ ہے ٹریفک پولیس ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے موٹر سائکل سواروں ٹیکسی اور رکشاوں اور پرانی گاڑیاں چلانے والوں سے رشوت وصول کرنے کا کام زیادہ کرتے ہیں، ٹریفک کنٹرول کم کرتے ہیں ٹریفک جام کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی تعداد بڑھانا ضروری ہے جنکے حل کے لئے ارباب اقتدار کو فوری کاروائی کرنی چاہئے۔

کراچی کے شہریوں کا چوتھا بڑا مسئلہ کچرے کے ڈھیر ہیں جسکی وجہ سے بیماریاں تو پھیلتی ہی ہیں لیکن شہر بھی بد صورت نظر آتا ہے شہر میں کچرے کے ڈھیرصرف غریب بستیوں میں نظر نہیں آتے بلکہ پوش علاقے بھی اس مصیبت سے دوچار ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئیں کوششیں اور اقدامات غیر موثر ثابت ہو رہے ہیں بلدیہ عظمی تو اس مسئلے کو مشینری اور فنڈز کی کمی کا رونا رو کر ٹال رہی ہے ۔

کراچی میں وزانہ پیدا ہونے والے کچرے کے لئے ایسے پروجیکٹس بنا نے پڑیں گے جن کے  ذریعے ان کا مثبت استعمال کیا جاسکے، صوبائی حکومت اور بلدیہ عظمی کوشہر  سے کچراٹھانے کے لئے مشینری اور ٹرک کی بڑی تعدا کے ساتھ مزدور بھی چاہئے، جو ناکافی فنڈز کا بہانہ کرکے ٹالا جارہا ہے اصل بات یہ ہے شہر کے ان کاموں کے لئے فنڈز کی  کمی اس وجہ سے پیش آرہی ہےکہ یہاں کی آباد تین کروڑ کے لگ بھگ ہے جبکہ سرکاری اعداد شمار کے مطابق  صرف  ڈیڑھ  کروڑ ہے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay