جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست مسترد

اسلام آباد : احتساب عدالت نے مریم نواز کے خلاف جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کیس کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نون کی نائب صدرمریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست پر سماعت کی۔

مریم نواز کی کمرہ عدالت میں میڈیا میں غیر رسمی گفتگو

مریم نواز نے کمرہ عدالت میں میڈیا میں غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ملک میں جوبھی حالات ہیں آپ کےسامنےہیں،ملک میں آزادی اظہاررائےمعطل ہے،اس وقت میڈیاکی آزادی بھی سلب ہے،اگرحکومت کوخوف نہیں تولوگوں کی زبان کیوں بندکی جارہی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کی جانب سےمیڈیا کوبھی دھمکیاں دی جارہی ہیں،سیاستدانوں پربراوقت آتاہےگزرجاتاہے، میڈیاکونقصان ہواتوبحالی مشکل ہوگی۔

مریم نوازکا کہنا  تھاکہ  ن لیگ ہرچیزکاجمہوری طریقےسےمقابلہ کررہی ہے،جب سڑکوں پرآئیں گےتو لگ پتہ جائےگا،ہم کبھی خالی کرسیوں سےخطاب نہیں کریں گے،اگراسمبلیوں میں نہ جاتےتوحکومت کی اصلیت کیسےسامنےآتی،آپ ہمارےجلسےدیکھیں لوگ ہمارےساتھ ہیں۔

اسلام آباد میں دفعہ144 نافذ ہےیہ خوف کاعالم ہے،گیدڑکی جب موت آتی ہےتووہ شہرکی طرف بھاگتاہے،لگتاہےحکمرانوں کاوقت بھی قریب آگیاہے،اب یہ معاملات زیادہ دیرتک نہیں چل سکتے۔

مسلم لیگ (ن) کی ناب  صدر نے کہاکہ کیاایسی حکومت کوہم 5سال پورےکرنےدیں،میں5سال چھوڑ بھی دوں عوام نہیں چھوڑیں گے،غریب آدمی کاجینا محال ہےلوگ بددعائیں دےرہےہیں ۔

ان کا کہنا تھاکہ جتناچاہیں ہمارےلوگ گرفتارکرلیں اب سلسلہ رکنےوالانہیں،اب کوئی آمریت کی طرف مڑکر بھی نہیں دیکھےگا،اللہ پرویزمشرف کوصحت دےاس وقت وہ عبرت کانشان ہیں،مشرف جیساجابرآمراپنےملک واپس نہیں آسکتا،مشرف کی باقیات عمران خان بھی عبرت کانشان ہیں۔

انہوں  نے مزید کہاکہ ایک سال بعدیادآیامریم نوازپرایک نیاکیس بن سکتاہے،ایک کیس میں کسی کو2سزائیں نہیں دی جاسکتیں،مجھ سےاورنوازشریف سےرابطہ کرنےکی کوششیں کی گئی ہیں،میں اورنوازشریف اصولوں کی قربانی نہیں دےسکتے،ہم ذاتی فائدےکےلیےعوام کی پیٹھ میں چھرانہیں گھونپ سکتے،ہم اقتدارکےلیےسلیکٹڈ ہونےکادھبہ نہیں لگاسکتے۔

مریم نواز کا کہنا تھاکہ نوازشریف آج بھی عزت سےجیل کاٹ رہےہیں،سوشل میڈیاکونشانہ بنانےوالی حکومت کمزورہے،وہ آوازیں بہت مضبوط ہیں جنہیں بندکرنےکی کوشش کی جارہی ہے،ایک ویڈیودکھائی،ویڈیوخراب تھی توجج کوکیوں نکالا؟میں نےمناسب ثبوت دکھادیا،بجائےاس پرایکشن لینےکےجج کونکال دیا،سلیکٹڈاعظم کی طرح اصولوں کی قربانی دیناپڑتی ہے۔

احتساب عدالت میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈکیس کی سماعت

مسلم لیگ نون کی نائب صدرمریم نواز عدالت کے رو برو پیش ہوئیں۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے فرد جرم سے متعلق احتساب عدالت کا پرانا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور موقف اپنایا کہ عدالت کے اس حکم نامے کو مریم نواز نے کہیں چیلنچ نہیں کیا، جعلی ٹرسٹ ڈیڈ سے متلعق حکم نامہ موجود ہو تو 30 دن کے اندر کاروائی لاگو نہیں ہوتی، لہٰذا اس حکم نامے کی روشنی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر کاروائی کی جائے۔

 دوران سماعت مریم نواز نے بولنے کی اجازت مانگی جس پر جج احتساب عدالت نے کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بولنے دیں۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے نیب کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق فیصلہ سنائے جانے کے 30 دن کے اندر رجوع کرنا ہوتا ہے، جو نہیں کیا گیا، عدالت نے خود اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے جعلی دستاویز پر مریم نواز کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔ نیب اپیل کا حق فیصلے کے 30 دن بعد کھو چکا، نیب کے درخواست ناقابل سماعت ہے۔

احتساب عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ ہی دیر بعد سنا دیا گیا۔ احتساب عدالت نے قرار دیا کہ اس کیس میں سزا کے خلاف مریم نواز کی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، اپیل کا فیصلہ ہونے تک ٹرسٹ ڈیڈ پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔

مریم نواز کی  قمیص پر والد کی  تصویر  اور ان کی  رہائی کا مطالبہ

 مریم نواز نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر  جو  لباس زیب تن کیا  اس کی  قمیص پر والد کی  تصویر  اور ان کی  رہائی کا مطالبہتحریر تھا ۔قمیص پر لکھا تھاکہ  بے گناہ نواز شریف کو رہا کرو۔

مریم کی قمیض پر نواز شریف کی تصویر اور مطالبہ

دوسری جانب  سماجی  روابط کی  ویب سائٹ  پر  انے  ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ان کیلئے اللہ ہی کافی ہے۔

سکیورٹی کیلئے خصوصی اقدامات 

مریم نواز کی عدالت پیشی کے موقع پر کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے جوڈیشل کمپلیکس کی سکیورٹی کیلئے خصوصی اقدامات کیے گئے ۔

 کمپلیکس کے اطراف اضافی نفری تعینات کرنے کے علاوہ غیر متعلقہ افراد کے داخلہ پر مکمل پابندی ہوگی، میڈیا سمیت کسی بھی شخص کو موبائل لانے کی اجازت بھی نہیں تھی ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay