بدلتے ہوئے سیاسی رنگ

تحریر :علمدار حیدر

پاکستان کی سیاست اب تبدیل ہورہی ہے کل تک احتساب کے نعرے لگاکر اپنے مخالفین کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کی کوششیں ہوتی تھیں جبکہ اب پہلی مرتبہ منتخب حکومت اور ریاستی ادارے مل کر ماضی کی کرپٹ سیاست کو دفن کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔

قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب اراکین نے کبھی بھی اس بات ی سنجیدگی سےکوشش نہیں کی کہ زندگی کے ہر شعبے میں پھیلتی ہوئی

بددیانتی، جھوٹ اور فریب کو دور کرنے کی کوشش کریں آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ سیاست، تجارت ،عبادت اور ریاضت غرض ہر شعبے میں ہم دوہرے معیار کا شکار ہیں عبادگاہوں کو چلانے والے ادارے ہوں یا تجارتی ادارے سیاسی جماعتیں ہوں یا سماجی ادارے ہر جگہ کرپشن کا بول بالا ہے لیکن چند ادارے اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایسے بھی ہیں جو ایمانداری سے کام کر رہے ہیں تاہم ان کی تعداد آٹے میں نمک ے برابر ہے۔

پاکستانی سیاست کو تباہی کی طرف لے جانے والے فریب اور مالی بد دیانتی کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، ایسا پہلی مرتبہ ہورہا ہے جس کی وجہ کرپٹ عناصر اس مشن کو ناکام بنانے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اپوزیشن جماعتوں کے سیاستدانوں کو جمہوریت خطرے میں دکھائی دے رہی ہے اور بد دیانت تاجروں اور صنعتکاروں کو معیشت ڈوبتی نظر ارہی ہے، وہ حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے جائز ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی حکومتی پالیسی کے خلاف ہڑتال کر رہے ہیں جبکہ ملک پر جتنا قرض چڑھاہوا ہے اسے اتارنے کے لئے حکومت سے تعاون ضروری ہے ۔

اسی طرح وہ تمام لوگ جو ماضی میں کروڑوں کما کر ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں انھیں بھی سامنے آکر حکومت سے تعاون کرنا پڑے گا اگر معاشرے کے وہ طبقات جو ملک سے بھاری فائدے اٹھا رہے ہیں اگر تعاون پر آمادہ نہ ہوئے تو ملک دیوالئے سے بچ نہیں سکے گا یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت معاشی بحران سے نکلنے کے لئے سخت اقدامات بھی اٹھانے کے لئے تیار ہے ۔

کرپٹ عناصر یہ سمجھ رہے ہیں کہ احتساب کا عمل رک جائے گا یہ ان کی غلط فہمی ہے کیونکہ اگر ریاست نے اسے نہ روکا تو ملکی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے جبکہ ریاست اپنے دفاع کے لیےکوئی بھی ایسا اقدام کر سکتی ہے جس کے ذ ریعے معیشت اور سیاست کو درست سمت پر لایا جاسکے۔

یہ بات ہر باشعور پاکستانی جانتا ہے کہ ملک کی ترقی اور دفاع کے لئے ضروری ہے کہ معاشی طور سے ملک مضبوط ہو جس کے لیے ابھی تھوڑا وقت لگے گاکیونکہ بگڑی ہوئی معیشت چند مہینوں میں درست نہیں کی جاسکتی ،موجودہ حکومت معیشت کی درستگی کے لئے دن و رات لگی ہوئی ہے سرکاری اخراجات میں تخفیف کی گئی ہے غیر ملکی سرکاری دوروں پر کم سے کم خرچ کیا جارہا ہے دیگر اخراجات کم کئے جارہے ہیں ۔

آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد پاکستان کو جو سہولیتیں حاصل ہوئی ہیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے بھی تعاون پر آمادہ ہے پاکستا ن پر ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی ہوئی تلوار بھی تھوڑی دور ہوگئی ہے آئی ایم ایف کی جانب سے جو شرائط لگائی گئی ہیں ان پر اگر صحیح طور پر عمل کی گیا تو بگڑی ہوئی معیشت سدھر جائے گی۔

اس وقت وزیر اعظم عمران خان کادورہ امریکہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،ان کے ہمراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ہیں ، جو اس دورے کو مزید اہم بناتا ہے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کو یہ علم ہوگا کہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کمزور ہوئی ہے اس کی درستگی سے پاکستان افغانستان کے مسئلے پر امریکہ کیلئے بہتر کردار ادا کر سکے گا لہذا حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے روئیے تبدیل کریں کیونکہ سیاست رخ بدل رہی ہے۔( جاری ہے )۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay