دنیا بدل رہی ہے

تحریر : علمدار حیدر

گزشتہ سے پیوستہ : سپر پاور امریکہ کے صدر ڈونلد ٹرمپ نے پاکستانیوں کو اسمارٹ اور ٹف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میرے کئی دوست ہیں اور پاکستانی ایک عظیم قوم ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے کویشن فنڈ عمران خان کے دور میں بند نہیں کئے تھے اب عمران خان جیسے مقبول لیڈر پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں یہ بحال ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے کے لئے کہاکہ ہم پاکستان کی ہر شعبے میں مدد کرنے کے لئے تیار ہیں انھوں نے کشمیر کے پرانے تنازعے کے حل کے لئے ثالثی کرنے پر آمادگی ظاہر کی انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر میری مودی سے بات ہوئی ہے انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر پاکستان انھیں دعوت دے تو وہ پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں وزیر اعظم عمران خان نے انھیں دورے کی دعوت دے دی ہے جسے انھوں نے قبول کر لی ۔

گزشتہ کئی سالوں سے امریکہ کے پاکستان سے تعلقات کشیدہ تھے ا س کا جھکاو بھارت کی طرف ہوگیا تھا لیکن اب محسوس ہوریا ہے کہ دنیا کی اکلوتی سپر پاور کی حکمت عملی تبدیل ہو رہی ہے اور وہ افغانستان کا مسئلہ پر امن طریقے سے گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں طالبان اور امریکیوں کے مابین ہونے والے حالیہ مذاکرات کی کامیابی میں پاکستان کا بھی کردار رہا ہے جسے امریکہ سراہتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ افغانستان میں ملی جلی گورئمنٹ بن جائے جبکہ پاکستان کی بھی یہ خواہش ہے ماضی کی طرح امریکی فوجوں کے جانے کے بعد وار لاڈز کے درمیان خانہ جنگی شروع نہ ہوجائے پاکستان کی مسلح افواج سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی صدر ڈونلد ٹرمپ سے ملاقات کی ۔ بعد میں وہ اپنے امریکی ہم منصب سے بھی پیناٹا گون میں ملے ،جہاں انھیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی اور خطے کی صورتحال بالخصوص افغانستان کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا ان کے ساتھ آئی ایس ائی کے سربراہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی تھے۔

امریکی صدر کے سامنے عمران خان نے جس طرح کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا ہے اس سے پہلے کسی پاکستانی لیڈر نے نہیں اٹھایا یہی وجہ ہے کہ کشمیری لیڈر شپ انھیں سراہ رہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کے کسی صدر نے مسئلہ کشمیر کی ثالثی کے لئے آمادگی ظاہر نہیں کی دونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد انڈین میڈیا بہت شور مچا رہا ہے جبکہ عمران خان نے پاکستان کی جانب سے بھارت سے امن کی لئے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا عمران خان نے ڈونلد ٹرمپ کے روئیے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اسٹریٹ فاروڈ انسان لگے عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ کہا کہ جو وعدے وہ کر یں گے اس پر سو فی صد عمل درامد کرنے کی کوشش کریں گے۔

واشنگٹن میں عمران خان کا کامیاب جلسہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکی نژاد پاکستانیوں کی بڑی تعداد ان کی حامی ہے اپوزیشن جماعتوں کی جانب عمران خان کے جلسہ عام کی تقریر پر شدید تنقید کی جارہی ہے کہ انھوں نےغیر ملک میں پاکستانی لیڈروں پر تنقید کی جبکہ جلسے کے شرکا نے اسے سراہا پاکستان کے عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانی یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان کی معاشی بحران کن لوگوں کی کرپشن اور منی لاندرنگ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے مختلف مزاج کے صدر ہیں وہ دانشوروں کے مشوروں پر چلنے کے بجائے جو بات ان کے دل کو لگتی وہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی پینٹاگون اور سی آئی آے کی ہرتجویز و مشورے کو نہیں مانتے۔

عمران خان نے ا مریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کے بارے میں کہا ہے ہمیں جنگی کیفیت سے نکلنا ہوگا ورنہ اس خطے میں رہنے والے ایک ارب سے زیادہ انسان شدید مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں عمران خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری جو ان دنوں امریکہ میں ہیں عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد یہ بیان دیا ہے کہ وہ حکومت کے مثبت کاموں کو سراہتے ہیں اور غلط کاموں پر بھرپور اپوزیشن کرتے رہیں گے بلاول کا یہ بیان بہتر کہا جاسکتا ہے۔

افغانستان کے بارے میں امریکہ کی بدلی ہوئی حکمت عملی کی وجہ سے دنیا بدل جائے گی کیونکہ نائن الیون کے بعد پاکستان،ایران، عراق، لیبیا، شام ،یمن ، مصر اور ترکی کے عوام جنگی صورتحال سے دوچار ہیں یہ کیفیت امریکی پالیسیوں کی تبدیلی سے بہر ہوسکتی ہے امریکہ نے پرانی پالیسی کی وجہ سے بھارت اور اسرائیل نے پورے ریجن کو جنگی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے سابق امریکی صدر اوبامہ کے دور میں جس طرح داعش جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیم کی سر پرستی کی گئی ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے تبدیل کیا اور اب امید ہے کہ وہ افغانستان میں موجود داعش کو پھولنے پھلنے نہیں دیں گے۔

مزید پڑھیے : بدلتے ہوئے سیاسی رنگ

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay