ن لیگ اورپی پی کاپارٹی ڈسپلن کمزورہوگیاہے، سابق چیئرمین سینیٹ

نیوزون کے خصوصی پروگرام “پرائم ٹائم ودتھ ٹی ایم” میں سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے شرکت کی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال سمیت اہم معاملات پر میزبان طارق محمود سے تبادلہ خیال کیا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے کہا کہ اپوزیشن کے64اراکین ایوان میں موجودتھے، 9اراکین نے اپوزیشن کےخلاف ووٹ دیے، ن لیگ اورپی پی کاپارٹی ڈسپلن کمزورہوگیاہے، سینیٹ میں شکست کے بعد اپوزیشن مزیدکمزورہوگئی ہے اور اب اپوزیشن کومزیدمشکلات کاسامناکرناپڑے گا۔

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کوچاہیے کہ وہ صحیح لوگوں کاانتخاب کرے، پارٹی جس کو چاہے اسے سینیٹ کاممبربناسکتی ہے، پارٹی کوچاہیےچیئرمین سینیٹ کاانتخاب سوچ سمجھ کرکرے، شروع میں پیسوں کااستعمال زیادہ ہوتاتھا اور خیبرپختونخوااوربلوچستان میں اس قسم کی شکایات زیادہ تھیں، سندھ اورپنجاب میں پیسوں کااستعمال نہیں ہوا، شکایات ہیں کہ بلوچستان میں پیسوں کااستعمال ہواہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کوچاہیےکہ وہ جیت کوٹرائل نہ سمجھے، حکومت ملکی حالات کے  پیش نظراپوزیشن کوساتھ لیکرچلے، ملک کی معیشت دباؤمیں ہے، حکومت اوراپوزیشن کوملکرآگےبڑھناچاہیے، پاکستان کےبھارت کےساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، اپوزیشن نے تمام ممبران کواعتمادمیں نہیں لیاتھا،  اپوزیشن سمجھ رہی تھی کہ تمام ممبران ساتھ دیں گے ۔

وسیم سجاد نے کہا کہ اپوزیشن کوعوام کےمسائل پرتوجہ دینی چاہیے، پاکستان میں بنگلادیش کےحالات نظرآرہےہیں، پارلیمنٹ اورحکومت نہ چلے توعوام تقسیم ہوجاتےہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہےکہ سیاسی درجہ حرارت کوکم کرے اور اس وقت معیشت کےلیےبہتراقدامات کی ضرورت ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay