یوم سیاہ یا یوم تشکر

تحریر :علمدار حیدر
پاکستان کی اٹھ پارٹیوں کے اتحاد کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منایا جبکہ تحریک انصاف نے وزیر اعظم عمران خان کے کامیاب دورہ امریکہ سے واپسی اور اپنی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر یوم تشکر منایا ۔

یوم سیاہ کے موقع پر اپوزیشن پارٹیوں نے کراچی لاہور پشاور اور کوئٹہ جلسے منعقد کئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے جلسے سے خطاب کیا مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لاہور میں جمیعت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الر حمان نے پشاور میں اور محمود خان اچکزئی اور مریم نواز نے کوئٹہ میں خطاب کیا ۔
اپوزیشن رہنماوں نے دوہزار اٹھارہ کے انتخابات پر بڑے پیمانے میں دھاندلی کا الزام لگایا تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے حکومت کے خاتمے تک تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ۔ تمام جلسوں میں مقررین نے عمران خان پر شدید تنقید کی لیکن عوام کو درپیش مسائل پر کم توجہ دی ۔

اٹھ پارٹیوں کی جانب سے کئے جانے والے جلسوں میں شرکا کی تعداد توقع سے کم تھی سندھ کے دارالخلافہ کراچی میں جہاں پیپلز پارٹی گیارہ سال سے بر سراقتدار ہے جہاں پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے خطاب کیا اس جلسے میں شرکا کی تعداد پچھلے ہفتے پاک سرزمین پارٹی کے جلسے سے بھی کم تھی جس سے مصطفیٰ کمال نے خطاب کیا تھا، اسی طرح لاہور کے جلسے میں شرکا کی تعداد کم تھی پشاور اور کوئٹہ کے جلسے بھی عوام کے لئے باعث کشش نہ تھے ۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں کا دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے انہیں ایک سال بعد یاد آرہا ہے اور الیکشن کمیشن میں دائر کی جانے والی دھاندلی کی پٹیشنز نہ ہونے کے برابر ہیں اس کا مطلب ہے کہ دھاندلی اور جعلی مینڈیٹ کا الزام درست نہیں۔

اپوزیشن عمران خان کو منتخب وزیر اعظم کے بجائے سیلیکٹیڈ وزیر اعظم کہتی ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کرتی کہ کس نے سیلیکٹ کیا ہے عوام نے سیلیکٹ کیا اس کا مظلب یہ ہے کہ اپوزیشن کے رہنما پاکستان کی مسلح افواج کی طرف اشارہ کر رہے جو نامناسب بات ہے ، ہاں اگر اپوزیشن پارٹیاں عوام کو درپیش مسائل کو بنیاد بناکر تحریک چلانے کی بات کریں تو لوگ نکل سکتے ہیں معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن پارٹیز ملک گیر ہڑتال کی کال دینے والی ہین دیکھتے ہیں وہ کتنی موثر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے امریکہ کے کامیاب دورے سے واپسی پرتحریک انصاف کے کارکنون عہدیداروں اور وزرا نے ان کا استقبال کیا۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ورلڈ کپ جیت کر ارہا ہوں ،انھوں نے اپنی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر شکر ادا کیا انہیں اس بات کا بھی احساس تھا کہ دنیا کی سپر پاور کے صدر سے کامیاب مذاکرات کر کے آئے ہیں انھوں نے کشمیر کا مسئلہ اور پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کے بابت غلط فہمیوں کو دور کیا اور افغانستان کے مسئلے پر اپنا موقف بھی منوایا لہذا ایک سال مکمل ہونے پر تشکر کا اظہار کیا۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay