آئینی جارحیت

 تحریر: علمدار حیدر  

مودی سرکار نے متنازعہ ریاست جموں کشمیر کو بھارتی آئین میں دئیے گئے خصوصی اسٹیٹس کو ختم کرنے کے لئے اپنے آئین سے شق نمبر تین سو ستر اور سب شق نمبر پنتیس اے نکال کو دیا ہے جسے آئینی جا رحیت قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس غیر آئینی قدم اٹھانے پر مودی کا یہ بیان آیا کہ اس نے ستر سالہ تنازعہ یک قلم جنبش ختم کردیا جو بھارت کے ایک بڑے رہنما ولبھ بھائی پٹیل کا خواب تھا جبکہ بھارت کے بہت بڑے رہنما مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو ریاست جموں کشمیر کی جداگانہ حیثیت برقرار رکھنے کے حامی تھے۔

پاکستان کے وزیر اعطم عمران خان نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قیادت نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے کہ اب ان سے مذاکرات ممکن نہیں انھوں نے اپنے دورہ امریکہ میں امریکی صد ر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کے دوران پاکستان اور بھارت کے مابین ستر سالہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دو جنگیں لڑی جاچکی ہیں اور اب یہ تنازعہ ایٹمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے تو امریکی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرنے پر آمادگی ظاہرکی جو بھارت کے لئے قابل قبول نہ تھی اور اس نے اس سے قبل کہ امریکہ مسئلہ جموں کشمیر پر اقوام متحد ہ کی جانب انیس سو اڑتالیس میں منظور کی جانے والی قراداوں جس میں اس تنازعہ کو حل کرنے کے لئے کشمیری عوام کو یہ حق دیا جاتا کہ کیا چاہتے ہیں؟ بھارت نے آئینی جارحیت کردی ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی جانب سے کشمیریوں کے خصوصی اسٹیٹس ختم کرنے کے جارحانہ اقدام کے باوجود دوبارہ یہ کہا ہے کہ وہ تنازعہ کو ختم کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں مودی سرکار کی جانب سے ایک کڑور سے زائد کشمیریوں پر لاکھوں فوجی تعنیات کردئیے جو عورتوں کی عزتوں کو پامال ، نوجوانوں کو گرفتار اور احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس اور پیلٹ گنز استعال کر رہے ہیں۔

اب ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کر کے بھارتی جیلوں میں بھیجا جا چکا ہے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کھلم کھلا کی جارہی ہے موبائل انٹرنیٹ پہلے ہی سے بند ہیں غذا اور دوا کی شدید قلت ہے۔ کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئی ہیں ۔

دنیا بھر کے زرائع ابلاغ میں کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم شائع و نشر ہو رہے ہیں لیکن اب تک کسی طرف سے کرفیو اٹھانے کا اور مظالم بند کرنے کا مطالبہ سامنے نہیں ارہا ہے۔

حکومتِ پاکستان بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے سارے معاملات رکھ رہی ہے لیکن اپوزیشن پارٹیاں یہ کہہ رہی ہیں کہ حکومت کی طرف سے موثر کاروائی نہیں ہو رہی ہے حکومت کی کمزوری کی وجہ وہ آئینی شقیں ہیں جو مودی نے ختم کی ہیں ۔

جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے بعد مسئلہ کشمیر سلامتی کو نسل میں آیا ہے اور اب پاکستان اسے عالمی عدالت میں لے جائے گا ،مودی نےکشمیریوں کی جدوجہد آسان کردی ہے اس نے اپنے ہی آئین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔

بھارت کے آزاد و جمہوریت پسند عناصر اس اقدام کی مذمت کر رہے ہیں دنیا کے بیشتر ممالک کے نزدیک اب بھارت انتہا پسند اور دہشت گرد ملک کے طور پرابھر کر سامنے آرہا ہے، جبکہ پاکستان کا امیج بہتر ہورہا ہے۔

مودی کے بارے میں جو پہلے ہی گجرات کے سلمانوں کاقاتل کہلاتا تھا اب ہٹلر اور مسولینی کے خطاب سے نوازا جارہا ہے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ پوری پاکستانی قوم کھڑی ہے اور وہ تنازعہ جو ستر سال سے حل نہ ہوسکا جلد ہی اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay