ہم لوگ بدل سکتے ہیں حالات کا دھارا

تحریر : مریم وزیر

“کیا میری رائے کی اہمیت ہے؟” میں وہ جو ہزاروں لاکھوں، کروڑوں اربوں کی آبادی والی دنیا میں صرف ایک فرد ہوں۔عام سا ایک فرد ذمہ داریوں کا گٹھرا لیے ہوئے ہوں۔ دنیا کے کسی بھی خطے ، علاقے کا باسی. کیسے میری بات یا رائے اہمیت رکھتی ہے؟ کیوں کسی معاملے پر رائے دوں؟ اور کیا رائے دینا یا رکھنا ضروری ہے؟

چپ بھی تو رہا جا سکتا ہے۔ پھر اگر رائے پسند نہ آئے، تو؟ اچھی نہ لگے؟ جنہوں نے راۓ مانگی ہے، انہیں مناسب نہ لگے تو؟ تو کیا ہوگا؟ یہ الگ موضوع ہے کہ کیسے راۓ دیں؟ الفاظ کا استعمال کیسا ہو؟

لہجہ کس طرح کا ہو؟ جذباتی قوم کے جذباتی فرد کی حیثیت سے بات کریں یا مثبت سوچ اور انداز کے ساتھ بات رکھی جائے. صرف اپنی بات یا رائے کی اہمیت ہو یا دیگر افراد کی رائے کا احترام کرنا بھی آتا ہو. تنقید برائے تنقید ہو؟ یا تنقید برا ئے تعمیر ہو؟

* میرے علاقے، شہر کا میں ذمہ دار نہیں ہوں.

* ملک میں جو ہوتا ہے، ہوتا رہے.

* امت مسلمہ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یہ ان کا درد سر ہے.

میریے اردگرد، معاشرے کے افراد کو طبقات میں تقسیم کردیا گیا ہے. ان کی پریشانیاں ان کی ہیں، یہ میرا مسئلہ نہیں ہیں. میں کیا کروں؟ یا کیاکرسکتاہوں؟

بجا مشرقی ترکستان، برما، روس، فلسطین، اور کشمیر کے مسلمانوں کیلئے میں کچھ نہیں کرپارہا۔ بجاکہ ملک کے بہت سے معاملات سے براہ راست میرا کوئی تعلق نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ہر خاندان معاشرے میں مسائل موجود ہوتے ہیں. ان سے باہر نکل پانا ہی بہت مشکل کام ہے.

تو کیا ضروری ہے کہ صرف جو مسئلہ میری ذات اور میرے خاندان سے متعلق ہوگا صرف وہی اہم ہوگا؟ یا صرف وہی حل طلب ہے۔ ضروری نہیں صرف خاندانی معاملات میں رائے دی جائے، بلکہ وہاں تو رائے دینا سب سے مشکل کام ہے کہ عموماً وہاں خاندان کے بڑوں کی رائے مانی جاتی ہے. ان کی رائے کی اہمیت ہوتی ہے۔

“پھر میری رائے کہاں ہے؟” وہ ہے موجود ہے اس کو دبایا گیا ہے. جان بوجھ کر، کبھی اداروں میں، کبھی خاندان کے بڑوں نے، کبھی والدین نے، کبھی کسی ڈر نے، اور کبھی میری کم ہمتی نے. یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ : ہم لوگ بدل سکتے ہیں حالات کا دھارا۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر فرد رائے رکھے. یہ سب کیسے ہوگا؟ مطالعہ سے، حالات کا جائزہ لینے سے! اس طرح سے بھیڑ چال میں مبتلا نہیں ہوں گے۔

معاشرے، ملک، علاقے اور دنیا کے کسی بھی خطے کے معاملات کے حوالے سے آگاہ ہوکر ان پر رائے رکھنا اور اس کو لوگوں تک پہنچانا اس دور میں قطعاً مشکل نہیں ہے ، اپنی سوچ کو لوگوں تک پہچانے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔

اپنی رائے کے اظہار کے طریقے اور ذرائع ڈھونڈیں. متعلقہ حکام، اداروں، افراد تک ان کو پہنچائیں. اس لیے طریقے سلیقے سے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں کہ یہ دنیا کے ہر فرد کا پیدائشی حق ہے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay