حکومت کفایت شعاری کی پالیسی پر گامزن ہے، حفیظ شیخ

اسلام آباد: مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ حکومت کفایت شعاری کی پالیسی پر گامزن ہے۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ معاشی ٹیم ملکی اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے اور حکومت سنبھالی تو معاشی صورتحال زبوں حالی کا شکار تھی۔ حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی جب کہ درآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کی گئی۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کمزور طبقات کیلئے 100 فیصد مراعات دی گئیں اور ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پہلی بار عسکری اخراجات کو منجمد کیا گیا اور قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے 150 ارب روپے مختص کیے گئے۔

انکا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال برآمدات میں اضافہ ہوا اور اگست کے مہینے میں سیلز ٹیکس میں 43 فیصداضافہ ہوا۔ ٹیکس وصولیاں مقررہ اہداف کے مقابلے میں 90 فیصد پر آئیں اور گزشتہ سال 19 لاکھ ٹیکس فائلرز تھے۔

مشیرخزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھکر 25 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 27 فیصداضافہ ہوا۔ 2015 سے اب تک سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیئر کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور فیصلے سے 10 ہزار ٹیکس دہندگان کو فائدہ ہوگا۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ تاریخی ریونیو کولیکشن چاہتے ہیں جس کیلئے ٹارگٹس بڑھا کر رکھے ہیں اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ سیلولر کمپنیاں اب ہمیں براہ راست ادائیگیاں کریں گی اور گزشتہ 2 روز میں سیلولر کمپنیوں نے 70 ارب روپے حکومت کو دیے۔

انکا کہنا تھا کہ مزید کمپنیوں سے رقوم ملنے پر فنڈز 200 ارب روپے ہوجائیں گے اور زراعت کی ترقی کیلئے اہم فیصلے کررہے ہیں۔ ہم پرامید ہیں کہ رواں سال زراعت میں گروتھ ریٹ 3.5 فیصد ہوگا اور ایکسپورٹ ٹیکس ریفنڈ کا نیا نظام 30 اگست سے لاگو ہوچکا ہے۔

مشیرخزانہ کا کہنا تھا کہ سرکاری محکمے 2 ارب تک کے منصوبوں پر خود فیصلے لے سکیں گے اور نان ٹیکس ریونیو میں اس سال خاطر خواہ اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ بجلی چوری کو کنٹرول کرکے 120 ارب روپے بچائے گئے اور گیس چوری میں بھی 9 سے 10 فیصد تک کمی آئی۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ جی آئی ڈی سی کے بارے میں سپریم کورٹ سے رہنمائی لی جائے گی اور جی آئی ڈی سی میں ہر فیصلہ قانون، عوامی مفاد کی بنیاد پر ہوگا۔ ہماری حکومت میں شفافیت کاعنصر قانون کے مطابق ہے اور جی آئی ڈی سی لانے کا مقصد کھاد کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو دیا اور ایکسپورٹ ٹیکس ریفنڈ میں ایف بی آر اہلکاروں کا کردار ختم کردیا۔ ایکسپورٹ ٹیکس ریفنڈ کا نیا نظام 30 اگست سے نافذ ہوچکا ہے اور ایکنک نے 579 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے۔

مشیرخزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ایکنک نے زرعی شعبے میں 250 ارب کے منصوبوں کی منظوری دی اور گزشتہ 5 سال میں زرعی شعبےمیں ترقی کی شرح منفی رہی۔ رواں مالی سال زرعی شعبے میں ساڑھے 3 فیصد ترقی کا امکان ہے۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ نان ٹیکس ریونیو میں 800 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے اور شعبہ توانائی کی آمدن میں 8 ماہ میں 120 ارب روپےکا اضافہ ہوا۔ ماضی میں گردشی قرضوں میں ماہانہ 38 ارب روپے کا اضافہ ہورہا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ گردشی قرضوں میں ماہانہ 28 ارب روپے کی کمی لائی گئی اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے 3 ہزار ارب دینے ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے ریونیو چاہیے۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آٹے کی قیمت کنٹرول کرنے کیلئے اسٹیک ہولڈر سے میٹنگ ہوگی اور حکومت کا ہر فیصلہ عوامی مفاد، ملکی بھلائی کے تناظر میں ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امیر افراد کے ٹیکس ریفنڈ پر اگلے ماہ بڑا فیصلہ آئے گا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay