ڈپارٹمنٹل ٹیمیں ختم ہونے کے بعدکئی کرکٹرز بیروزگار ہوگئے

کراچی:  پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ نظام میں ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے خاتمے سے کھلاڑی بیروزگار ہونا شروع ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ نظام میں ڈپارٹمنٹل ٹیموں کا سلسلہ ختم ہونے سے کھلاڑیوں کو ملازمت سے نکالنے کا معاملہ شروع ہوگیا ہے جس کے دوران کئے کرکٹرز ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جب کہ کنٹریکٹ والے ملازمین کو نئے معاہدے نہیں ملیں گے اور مستقل ملازمین کو کام کرنا پڑے گا۔

پہلے مرحلے میں نیشنل بینک نے دس کھلاڑیوں کو ملازمت سے فارغ کیا جارہا ہے جن میں شان مسعود، میر حمزہ اور رومان رئیس نمایاں ہیں۔گذشتہ سال فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے کرکٹرز کوبینک انتظامیہ نے معاہدوں کی تجدید نہیں کی ہے۔

شان مسعود پی سی بی کے کنٹریکٹ میں سی کٹیگری میں ہیں۔میر حمزہ ٹیسٹ کرکٹر اور رومان رئیس انٹر نیشنل کرکٹر ہیں دونوں کو پی سی بی نے صوبائی ٹیموں کے ساتھ کنٹریکٹ دیئے ہیں۔

پی سی بی کے نئے آئین میں سولہ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز کو ختم کرکے چھ ایسوسی ایشنز کو رکھا گیا ہے اور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کی جگہ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشنز نے لے لی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ڈومیسٹک سیزن 2019-20 پر ایک ارب روپے سے زائد خرچ کرے گا اور پورے سیزن میں ایک کھلاڑی کو سالانہ 20 لاکھ روپے کی آمدن ہو گی جب کہ ڈومیسٹک سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی سالانہ 6 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرے گا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay