باغی شاعر جون ایلیا کو ہم سے بچھڑے 17 برس بیت گئے

[mashshare]

باغی شاعر جون ایلیا کو ہم سے بچھڑے 17 برس بیت گئے۔

نونومبر سنہ 2002 وہ دن ہے جس دن باغی اور روایت شکن شاعر کہلائے جانے والے جون ایلیاء اس دیار فانی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر ابدی نیند سوگئے لیکن ان کی شاعری ہر اس شخص کے دل و دماغ میں زند ہ ہے جو باشعور اور ذی شعور ہے ۔

اس روایت شکن ، باغی اور منفرد لب و لہجے کے شاعر نے اپنی شاعری کو ایک منفرد رنگ دیا۔ جون ایلیاء سرتاپا شاعر تھے۔ سوائے شاعری کے انہوں نے کوئی اور کام کیا ہی نہیں۔ انہوں نے شاعری کو صرف اوڑھ نہیں رکھاتھا بلکہ شاعری کو خود میں بسر کرتے تھے۔

آج ان کے یوم ِ وفات کے موقع پر ان کی شاعری کے دریچوں سے ان کی زندگی میں جھانکتے ہیں۔

~

عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

بولتے کیوں

بے قراری سی بے قراری ہے

وصل ہے اور فراق طاری ہے

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

~

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم  ۔۔۔۔بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسم دوری ۔۔۔۔  کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
وفا اخلاص قربانی محبت۔۔۔۔ اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

~

اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے۔۔۔۔بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں
ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میں۔۔۔۔بے سبب دھوم دھام کر رہے ہیں

رمز

تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

سزا

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم
ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں
تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم
میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں

مزید پڑھیے :باغی شاعر جون ایلیاء کا 87 واں یومِ پیدائش

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay