سبزیوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ، عوام پریشان

وزیراعظم عمران خان نے ایک تاریخی ڈائیلاگ بولا تھا ‘میں ان کو رولاؤں گا ’ میں نے ابھی تک ان کو تو روتے نہیں دیکھا البتہ مہنگائی کی چکی میں پستے غریب عوام کو کئی مرتبہ خون کے آنسو روتے ریکھ لیا ہے ۔

اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ حکومت نے جو عوام سے وعدے کئے تھے اسے پورا کرنے مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے تو غلط نہیں ہوا، ناکام معاشی پالیسی کے باعث ناقابلِ برداشت مہنگائی نے عوام کی کمر توڑدی ہے ، ملک کی معاشی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

مہنگائی کے دور میں دال سبزی بھی غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے ، ٹماٹر سمیت ملک بھر میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں جس کے سبب شہری پریشان ہیں ۔

سبزیوں کی قیمت میں ہوش ربااضافے کے سبب سبزی بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہے ۔حکومتی دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ٹماٹر کی قیمت سن کر شہریوں کے منہ لال ہو جاتے ہیں ۔ آگے لکھنے سے پہلے رواں ہفتے کی قیمتوں پر نظر ڈال لیتے ہیں ۔ ٹماٹر 260 سے 300 روپےفی کلو تک فروخت ہورہے ہیں جبکہ پیاز 80 روپے فی کلو اور آلو 50 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں ۔

اسلام آباد کی مارکیٹوں میں بھی سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ٹماٹر فی کلو 270 سے 300 روپے، آلو فی کلو 120 سے 150 روپے اور پیاز فی کلو 100 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔ادرک اور لہسن 200 سے 400 روپے فی کلو میں فروخت ہورہاہے جوکہ پاکستانی کھانوں کا اہم جز ہے ۔
کوئٹہ میں بھی ٹماٹر160سے 200 روپےفی کلو ، پیاز 80 ، آلو 40 سے 50روپےفی کلو ،لہسن اورادرک 400 روپےفی کلو، مٹر 200 روپے، شملہ مرچ 160روپے اوربھنڈی 120روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔

سبزیوں کی قیمت میں اس ہوش ربا اضافے کے حوالے سے عوام کے ملے جلے تاثرات ہیں تبدیلی کی ماری عوام کا کہنا ہےکہ وقت گزرنے کے ساتھ سب حالت ٹھیک ہو جائیں گے ۔ پی ٹی آئی گورئمنٹ سے تو لوگوں نئی نویلی دلہن جیسی امیدیں ہیں جو سجے بھی ،سنورے بھی ،بیٹے کو بھی خوش رکھے ،گھر کے سارے کام بھی کرے اور ان سی اینڈ آف دی آئیر وہ خاندان کا وارث بھی دے ۔ ان کا کہنا ہےکہ تبدیلی آتے آتے آئے گی برسوں کی کرپشن ایک سال میں کیسے دور ہو سکتی ہے ۔

دوسری جانب غریب عوام کی اس مہنگائی سے چیخیں نکل گئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں سراسر ناکام رہی ہے، اگر روزمرہ ضرویاتِ زندگی کی اشیاء ہی اتنی مہنگی ہوں گی کس طرح گزارا ہو گا۔ان کا کہنا ہے ۔دودھ ،دہی ،آٹا ،سبزی اور دال بھی ہماری پہنچ سے دور ہو رہے ہیں تو کیا پکائیں اور کیا کھائیں ؟
عوام کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اور بازار میں سبزیوں کے ریٹس مختلف ہیں، عوام حکومت سے مطالبہ کر ہی ہے کہ سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے۔

دوسری جانب مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ٹماٹر کی قیمت سے مکمل طور پر لاعلم ہیں انہوں نے ٹماٹر 17 روپے کلو کہہ کر عوام کی بے بسی کا مذاق اڑایا ہے ۔

گیارہ نومبر کوصحافی سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کراچی میں ٹماٹر 17 روپے کلو دستیاب ہے، لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔انہوں نے صحافی کے سوال پر کہا کہ ’کراچی کی سبزی منڈی میں ٹماٹر 17 روپے کلو مل رہا ہے، آپ جائیں جاکر چیک کریں‘۔اس پر صحافی نے پوچھا کہ کونسی سبزی منڈی میں؟ تو عبدالحفیظ شیخ نے کہا ’ٹی وی پر چل رہا ہے‘، صحافی نے جواب دیا کہ ٹی وی پر تو 240 روپے فی کلو چل رہا ہے۔

میں یہاں یکم اگست2019 کو جاری ہونے والی ادارہ شماریات کی رپورٹ کا ذکر بھی کروں گی جس کے مطابق ملک میں مہنگائی چھ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جون کے مقابلے میں جولائی کے دوران مہنگائی میں 2.29 فیصد اضافہ ہوا ، جولائی میں گیس 30.90 فیصد مہنگی ہوئی اس دوران آلو 16.84 اور کاریں 14.43 فیصد مہنگی ہوئی جب کہ سیمینٹ 12.72 اور سریا 12.47 فیصد مہنگا ہوا سونا 9.73 اور سی این جی 8.84 فیصد مہنگی ہوئی دال مونگ اور انڈے 5 فیصد سے زیادہ مہنگے ہوئے۔

ایک سال میں گیس ایک سو بیالیس فیصد ، لہسن پچہتر فیصد ، روٹی نو اعشاریہ تین فیصد ، پیاز انسٹھ فیصد اور چینی تیس فیصد مہنگی ہوئی ہے۔ کاریں 25 اعشاریہ 54 فیصد ، سگریٹ 24 اعشاریہ 67 فیصد پیٹرول 22 اعشاریہ 53 فیصد ، آلو 21 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 12 فیصد جب کہ بجلی 11 اعشاریہ 33 فیصد مہنگی ہوئی۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہےکہ بنیادی ضرویات زندگی کی اشیاء کا عام آدمی کی دسترس سے دور ہو جانا ملکی معیشت کے مسلسل تنزلی کی طرف سفر کی نشاندہی کرتا ہے۔

اب یہ لازم ہو گیا ہے کہ صوبائی و مرکزی حکومت ہنگامی بنیادوں پر مہنگائی قابو پائیں۔ اس معاملے میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے آئے روز پٹرولیم، بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے کی روش کو بھی بدلنا ہوگا ۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay