حسین جذبوں، رومانوی انداز ، دل کو چھو لینے والی خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر

تحریر : مطیع الرحمن 

ترتیب و تدوین: عنبر حسین سید

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

پیار ،عداوات ،شکوہ ،اداسی ، اظہار ،سچائی ،چاند تارے پھول شبنم ،ہوا بادل ،برسات اور بے پناہ محبت کا اظہارلفطوں میں کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اگر دل کی کیفیت اور سوچ کی گہرائی کو کسی تک پہنچانا ہو تو اظہار کا بہترین طریقہ شاعر ی ہے ۔میں جب بھی شاعری کی کتب اپنے ہاتھ میں اٹھاتا ہوں تونہ جانے کیوں میرے ذہن میں پہلا خیال خوشبو ،صدبرگ ،انکار اور ماہ تمام کی شاعرہ پروین شاکر کا خیال آتا ہے ان کی شاعری میں جو لطافت میں نے محسوس کی وہ مجھے بار بار ان کی کتابیں پڑھنے پر آمادہ کر تی ہے ۔

اردو شاعری کی تاریخ کی مایہ ناز شاعرہ پروین شاکر ایک تعلیم دان ،بیوروکریٹ ، ایک پیار کرنے والی ماں اور لاکھوں لوگوں کے دلوں کی ترجمان تھیں ۔ساحل پہ کھڑی تنہا لڑکی پروین شاکر نے24نومبر1952کواس دنیا میں آنکھ کھولی ۔پروین شاکر کو بچپن میں پیار سے پارو کہہ کر پکاراجاتا تھا ۔ پارو واقعی ایک پیار بھرا نام ۔

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا

وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا

اگر بات ان کےفنی سفر کے آغاز کی ،کروں تو پروین اپنی تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان و دیگر جگہوں پر مختلف مباحثوں میں حصہ لیتی تھیں لیکن انہوں نے یہ سلسلہ انٹرمیڈیٹ کے بعد ختم کر دیا تھا ۔وہ اپنے مزاج سے شناسہ ہو کر شاعری کی طرف یکسو ہو چکی تھیں۔

چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
اے میری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کر دیا

پروین شاکر نے جامعہ کراچی سے انگلش میں ادب و زبان کی الگ الگ ایم اے ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نی ہارورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔

پروین شاکر نے 1982 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا وہ وزارت خارجہ میں کام کرنے کی خواہشمند تھیں لیکن 1983 میں جرنل ضیا کی حکومت نے خواتین کو وزارت خارجہ میں کام کرنے کی منظوری نہ دی جسکی وجہ سے انہوں نے تعلیم کے شعبے کا رخ کیا ۔

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہہ کو خواب و خیال کر دیا

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری یہ کیا مجھ کو بحال کر دیا

پروین نے 9 سال پاکستان اور امریکہ میں درس وتدریس کی بعدازاں وہ کسٹم کے محکمہ میں تبادلہ کروایا ۔
محبت ،خوشی ،غم زندگی کے تمام رنگ نہ صرف انکی شاعری کا حصہ تھے بلکہ وہ ان تما م جذبات و احساسات کی گہرائی سے واقف تھیں۔

بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح
دست گُل پھیلا ہُوا ہے مرے آنچل کی طرح

پروین کو دنیاوی مال و متاع کی خواہش نہ تھی البتہ انہیں کتابیں جمع کرنے کا شوق تھا ۔ان کے پاس 5 ہزار سے زائد کتابوں کا ذخیرہ موجود تھا ۔

پت جھڑ سے گلہ ہے نہ شکایت ہوا سے ہے
پھولوں کو کچھ عجیب محبت ہوا سے ہے
سرشارِشگفتگی گل کو کیا خبر
منسوب ایک اور حکایت ہوا سے ہے

پروین شاکر کو ابتدا میں کھانا پکانے نسے بھی کوئی خاص شغف نہ تھا لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کی چٹخارہ طبعیت کو دیکھتے ہو ئے کھانے پکانے میں مہارت حاصل کی ۔
پروین اپنی شاعری مٰیں سادہ اور عام فہم زبان استعمال کرتی تھیں یہی انداز کلام وہ گفتگو کے دوران اپناتی تھی۔ پروین الفاظ اور کرادار میں حقیقت پسندی پر یقین رکھتی تھی۔

اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں
اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

پروین سیاست میں زیادہ دلچسپی نہ رکھتی تھیں البتہ وہ ابتداہی عمر میں بھٹو مرحوم کی شخصیت سے متاثر نظر آتی تھیں ۔پروین کی شاعری محبت کی شاعری ہے لیکن انکی کتاب صد برگ میں انکی ذاتی زندگی اور حکومت وقت سے کئے گیے شکوے بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہے جو درد کائنات بن جاتا ہے اسی لیے انہیں دور جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ حالانکہ وہ یہ بھی اعتراف کرتی ہیں کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کشور ناہید، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں، لیکن ان کے یہاں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی ہم عصر دوسری شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی۔ اُن کی شاعری میں قوس قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں۔

جانے کب تک رہے یہ ہی ترتیب دو ستارے ملے قریب قریب
چاند کے پاس کیا کھلا تارا بب گیا سارے زمانے کا رقیب

اُن کے پہلے مجموعے خوشبو میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہار ہے اور اس وقت پروین شاکر اسی منزل میں تھیں۔ زندگی کے سنگلاخ راستوں کا احساس تو بعد میں ہوا جس کا اظہار ان کی بعد کی شاعری میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ ماں کے جذبات شوہر سے ناچاقی اور علیحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔

میں اس سے کہاں ملی تھی
بس خواب ہی خواب دیکھتی تھی
سایہ تھا کوئی کنار دریا
اور شام کی ڈوبتی گھڑی تھی

چھبیس دسمبر انیس سو چورانوے پاکستان کی تاریخ کا وہ دن تھا جس نے اردو ادب سے جڑے تمام افراد کو سوگوار کردیا۔ اس دن پاکستان کی صف اول کی شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئیں۔ ممتاز شاعرہ کی وفات کی خبریں شائع ہوئیں تو ملک بھر میں سوگواری کی فضا چھا گئی ۔ ہر کوئی اداس اور پروین شاکر کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو تھا۔

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں‌ اس کو بھول جاؤں گی
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay