سنہ 2019 میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں کیا ہوا؟

اکیسویں صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلاب آیا ہے اور انسان ہر وہ چیز کرسکتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ انسان زندگی کو سہل اور آسان بنانے کے لیے روز بہ روز نت نئے تجربے اور ایجادات کر رہا ہے۔

اگر سال 2019 میں ہونے والی ایجادات کی بات کریں تو دنیا بھر کے سائنسدانوں نے اس میدان میں مختلف تجربات کیے جن کے بعد حیرت انگیز ایجادات منظر عام پر آئیں ۔ مگر بحیثیت قوم ہم نے اس سال بھی طب اور سائنس کے شعبوں میں کوئی قابل ستائش کام انجام نہیں دیا ۔

سال کے اختتام پر آئیں ایک نظر دنیا کےمختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کی چند بڑی ایجادات پر ڈالتے ہیں۔

زمین سے دور گھومتی چٹان

امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ کی جانب سے 6 جنوری 2006 کو نیو ہورائیزن نامی خلائی گاڑی نظام شمسی کے نویں ‘سیارے’ پلوٹو کی طرف بھیجی گئی تھی جو 13 جولائی 2015 کو اپنی منزل ‘پلوٹو’ کے بالکل قریب سے گزری اوراس نے اپنا بنیادی ہدف تو پورا کرلیالیکن یہ خلائی گاڑی تیزی کے ساتھ خلا کی گہرائیوں میں بڑھتی گئی اور 3 جنوری 2019 کو یہ خلائی گاڑی ہمارے نظام شمسی کے گرد موجود پتھروں کے علاقے میں پہنچی جسے فلکیاتی اصطلاح میں “کائپر بیلٹ” کہا جاتا ہے، یہاں یہ خلائی گاڑی ایسے پتھریلے جوڑے کے پاس سے گزری جو کسی کو برف کا مجسمہ لگا تو کسی کو یوں لگا جیسے لاکھوں سال سے دو پتھر جن کا نام ‘التما’ اور ‘تھلے’ رکھا گیا، آپس میں ٹکراتے ہوئے ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ پتھر ہماری نظام شمسی کی پیدائش کے وقت بنے اور بہت کم رفتار سے ایک دوسرے میں دھستے چلے گئے، اس وجہ سے ان کا نام “الٹیم تھلے” پڑا لیکن ان کا اصل نام “2014 MU 69” ہے، ان پتھروں کی خاص بات یہ ہے کہ نظام شمسی کے پہلے دنوں کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔

سیارہ زحل کا ایک دن کا دورانیہ

سیارہ زحل نظام شمسی کا ایک گیسی سیارہ ہے اور اس کی اسی خاصیت کی وجہ سے سائنسدانوں کو ابھی تک زحل کے ایک دن یعنی ایک چکر کا دورانیہ معلوم کرنے میں دشواری پیش آرہی تھی، دشواری کی وجہ مشتری کی سطح پر بہت بڑا طوفان برپا ہونا ہے جو زمین سے لال نشان کی صورت میں نظر آتا ہے اس لیے سائنسدان اس کے ایک چکر پورا ہونے پر مشتری کے ایک دن کا دورانیہ بتا سکتے ہیں لیکن زحل پر کوئی واضع نقوش نہیں جن سے یہ اندازہ لگایا جائے کہ اس کے ایک دن کا دورانیہ کتنا ہے،اس کے لئی سائنسدانوں نے سیارے کے گھومنے کی وجہ سے اس کے گرد ہلکوں میں بننے والی لہروں کی مدد سے اس کا دورانیہ معلوم کیا جوکہ ایک دن 10 گھنٹے 33 منٹ اور 38 سیکنڈز کا ہے۔

قدیم پرندہ اپنے انڈے کے ساتھ دریافت

مارچ 2019 میں سائنسدانوں کو شمال مغربی چین میں 11 کروڑ 50 لاکھ سال پرانے ایک مادہ پرندے (جس کا سائنسی نام ‘اویمایہ سچوتذایہ’ ہے) کا فوسل ملا جو نہ صرف خود کہربا کے پتھر میں موجود تھا بلکہ اس کے ساتھ اس کا انڈا بھی موجود تھا جو اس پرندے کو دینا تھا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔
سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا فوسل پہلے کبھی نہ دیکھا تھا اوراس دریافت سے اس بات کا بھی اندازہ ہوا کہ 11 کروڑ سال پہلے پرندوں میں انڈے کس طرح بنتے تھے ۔

fossil-bird-found

سائنسدان بلیک ہول کی تصویر لینے میں کامیاب

انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا تھا کہ دنیا کی 8 ریڈیو دوربینوں نے مل کر بلیک ہول کے گرد روشنی خارج کرنے والے مادے کی تصویر لی اور اس مادے کے بیچ سیاہ دائرہ دکھائی دیا جسے سائنسی اصطلاح میں بلیک ہول کہا جاتا ہے۔

اس تصویر نے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچایا ہواتھا کیوں کہ لوگوں نے ہمیشہ سے سائنس فکشن فلموں میں بلیک ہول کی سمولیشنز دیکھی تھیں لیکن آج یہ حقیقت ہے، اس کے علاوہ انسانیت کو بلیک ہول کی تصویر سے اس بات کا بھی علم ہوگیا کہ ہم فزکس اور ریاضی کے حسابات میں ٹھیک بڑھ رہے ہیں کیونکہ جیسا ہمارے حسابات نے بلیک ہول کی پیشگوئی کی تھی بلیک ہول بلکل ویسا ہی ہے۔

black-hole

پہلی دفعہ ‘کوانٹم اینٹنگلمنٹ’ کو کیمرے میں قید کیا گیا

کوانٹم اینٹنگلمنٹ قدرت کا ایک ایساعمل ہے جو دو کوانٹم کے ذرے کو آپس میں ظاہری خوبیوں کے اعتبار سے جوڑ تا ہے پھر چاہے ان دونوں ذروں کو ایک دوسرے سے کتنا بھی دور کردیا جائے تو ایک ذرہ دوسرے کے ساتھ جڑتا رہتا ہے۔

Quantum-Entanglement

انسانوں نے جولائی 2019 میں پہلی دفعہ کوانٹم اینٹنگلمنٹ کا نظارہ کیاتھا، سائنسدانوں نے لیزر کی مدد سے کچھ فوٹوز کو اس طرح سے ٹکڑے ٹکڑے کیا کہ وہ دونوں ٹکڑے آپس میں کوانٹم اینٹنگلمنٹ کے عمل کو دکھاتے رہیں اور اس عمل کو انہوں نے کیمرے میں قید کرلیا۔

دوسرے نظام شمسی کے سیارے پر پانی دریافت

ماہرین نے2019 کے وسط میں ایک ایسا سیارہ ایجا د کیا جہا ں پانی موجود تھا جس کی وجہ سے وہا ں رہا ئش ہوسکتی تھی ۔ K2-18 نامی لال بونے ستارے کے گرد زمین سے آٹھ گنا بڑے سیارے ہے جس پر آبی بخارات اور اتنا درجہ حرارت ہوجود ہے جو پانی مایع حالت میں رہ سکے، سائنسدانوں کے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ جب انہوں نے نظام شمسی سے باہر اپنے ستارے کے ‘قابل رہائش علاقے’ میں چکر لگانے والے سیارے پر پانی دریافت کیا تھا ۔

انسان کے ارتقائی آباؤ و اجداد کے ڈی این اے سے چہرہ تیار کرنا اب ہوا ممکن

ستمبر 2019 میں ہیبریو یونیورسٹی آف یروشلم کے ماہرین لڑان کرمل اور ڈیوڈ گوخمان نے ڈینسووا کی غار سے انسان کی ارتقائی سیڑھی میں موجود نسل ‘ڈینسوونز’ کے ملنے والے تین دانت اور 6 لاکھ سال پرانی جبڑے کی ہڈی سے ڈی این اے حاصل کرکے ‘ایپی جنیٹکس’ کی تکنیک کا استعمال کرکے ان کے ظاہری صورت معلوم کی اور انسان کے آباؤ و اجداد کا چہرہ تیار کیا۔

ایپی جنیٹکس ایسی حیاتیاتی تکنیک ہے جس کی بدولت ڈی این اے سے جانداروں کے ظاہری نقوش کی معلومات حاصل کرکے بنا کسی فوسل کے جاندار بنایا جاسکتا، سائنسدانوں نے اپنی اس تکنیک کا جائزہ لینے کے لیے یہ فرض کیا کہ جیسے وہ بدمانس کے ظاہری حالت کو نہیں جانتے اور نتیجے میں بننے والی شکل بالکل بدمانس جیسی تھی، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے سائنسدان بہت سے ارتقائی آباء کی شکل بنا سکتے ہیں۔

اب زمین پر بھی مصنوئی زندگی ممکن

برطانیہ میں میڈیکل ریسرچ کونسل برائے مالیکیولر بائیولوجی کے سائنسدانوں نے انسان سمیت مختلف ممالیہ جانوروں کی بڑی آنت میں رہنے والے ایک بیکٹیریا جس کا سائنسی نام (عسرشیہ کولائے) پر ایک تجربہ کیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ بیکٹیریاز جانوروں کے پیٹ میں رہ کر خود نشونما حاصل کرتے ہیں اور بدلے میں ان جانوروں کو ہاضمے میں مدد دیتے ہیں۔

Artificial-life

جب سائنسدانوں نے مئی 2019 کے آخرمیں ان بیکٹیریاز کا ڈی این اے خود کے بنائے ڈی این اے سے تبدیل کرا تو نتائج میں یہ بیکٹیریاز مرنے کی بجائے اس تبدیل شدہ ڈی این اے کے ساتھ ہی تقسیم ہو کر اپنی آبادی میں اضافہ کرنے لگے اور ان بیکٹیریاز میں بھی وہی خوبیاں پائی گئیں جو ڈی این اے لیب میں ڈی این اے بناتے وقت سائنسدانوں نے کمپیوٹر میں فیڈ کی تھیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے ہم مستقبل میں ایسے جاندار بھی بنا سکتے ہیں جو مختلف ادویات بنائیں اور ہمارے لیے ‘لائف فیکٹریز’ کا کام سرانجام دیں ۔

خشکی پر سب سے پہلے کون آیا ؟

سائنسدانوں کے درمیان ہر وقت یہ بات زیر بحث رہی ہے کہ خشکی پر سب سے پہلے کون آیا لیکن حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خشکی پر پودوں سے بھی پہلے ‘فنگس’ آئی جسے عام زبان میں “پپوندی” بھی کہا جاتا ہے۔

یہ بہت ہلکی اور نرم ہوتی ہے اور اس کے بارے میں یہ خیال بھی کیا جاتا تھا کہ اس کے فوسل ملنا بہت مشکل ہیں لیکن گزشتہ سال اس کے فوسل خشکی پر ملے جو خشکی پر ان کی موجودگی پودوں سے بھی پہلے ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سائنسدانوں نے پہلے کہا تھا کہ زندگی کا آغاز پانی میں ہوا اورسب سے پہلے نمی سے خشکی پر پودے آئے اور پھر باقی جاندار آنا شروع ہوئے۔

5700سال پہلے چبائی گئی چیونگم کی سے ڈی این اے کی تشخیص

بچے اور نوجوان میں کھیلتے وقت یا کوئی کام کرتے وقت چیونگم چبانے کا رجحان عام بات ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ چیونگم اکیسویں صدی کی ایجاد ہے لیکن رواں مہینے میں سائنسدانوں نے ایک ایسی چیونگم دریافت کی جو 5007 سال پہلے کسی لڑکی نے گوشت کھانے کے بعد چباکر پھینک دی تھی۔

یہ چیونگم ڈنمارک کی سرزمین پرایک درخت سے دریافت کی اور جب اس کا ٹیسٹ کیا گیا تو اس سے مکمل انسانی ڈی این اے ملا جس سے معلوم ہوا کہ یہ چیونگم ایک سیاہ لڑکی نے چبائی تھی۔

chewed-piece-of-birch-pitch

ماہرین نے اس پرحیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چبائی گئی چیونگم سے اس کے چبانے والے کے بارے میں ہزاروں سال بعد بھی معلوما ت حاصل کرسکتے ہیں ۔

مزید پڑھیے : سال 2018 : نت نئی ایجادات کا سال

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay