2019 : ہائی پروفائل گرفتاریوں کا سال

سال 2019 وہ سال ہے جس میں کرپشن کرنے کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں اور موجودہ حکومت کے بہت سے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ۔ سال کے اخر میں آئیں زرا ایک نظر ان سیاسی لیڈرز پر ڈالتے ہیں جنہیں ناصرف بدعنوانی کے کیسز میں گرفتار کیا گیا بلکہ عدالت کی جانب سے سزائیں بھی سنائیں گئیں ۔

سابق صدر آصف علی زرداری

رواں برس 10 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کو جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا۔تاہم 11 دسمبر کواسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر ضمانت ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔

مزید پڑھیے : نیب نےسابق صدرآصف علی زرداری کوگرفتارکرلیا

یاد رہے کہ ایف آئی اے نے درجنوں جعلی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا تھا جن کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ اس کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت بہت بااثر شخصیات اور بعض بینکوں کے سربراہان کے نام سامنے آئے جب کہ فالودے والے اور رکشے والے سمیت متعدد غریب لوگوں کے نام پر اربوں روپے کے بینک اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا جن سے وہ غریب خود بے خبر تھے۔اس کیس میں چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکس چینج حسین لوائی، اومنی گروپ کے مالک انور مجید سمیت آصف زرداری کے متعدد قریبی ساتھی گرفتار ہوچکے ہیں۔

asif-ali-zardari

مریم نواز

8 اگست کوقومی احتساب بیورو ( نیب )لاہور نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف اورسابق وزیر میاں محمد   نواز شریف کے مرحوم بھائی عباس شریف کے بیٹے  یوسف عباس  شریف کو چوہدری شوگر ملز اور منی لانڈرنگ کیس  میں گرفتار کیا ۔

مزید پڑھیے :نیب نے مریم نواز کوحراست میں لےلیا

رانا ثناء اللہ

منشیات فورس (اے این ایف) نے سابق وزیر قانون پنجاب و مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناءاللہ کو یکم جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور اے این ایف نے دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔ تاہم  رواں  ماہ  24 دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت 10، 10 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کے  عوض منظور کی۔

مزید پڑھیے: منشیات کیس: رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت منظور، رہائی کا حکم

شاہد خاقان  عباسی

  رواں  برس  18 جولائی کو سابق وزیراعظم اور رکن اسمبلی شاہد خاقان عباسی کو قومی احتساب بیورو(نیب) کی بارہ رکنی ٹیم نے لاہور میں گرفتار کیا ۔ان کی گرفتاری اربوں روپے مالیت کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی)کے درآمدی ٹھیکے میں مبیّنہ بدعنوانیوں کے کیس میں عمل میں آئی ۔
مزید پڑھیے:ایل این جی کیس: سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی گرفتار

 مفتاح  اسماعیل

مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کوسات اگست کو  نیب نے ایل این جی کیس میں گرفتار کیا  تھا تاہم ان کی  بھی  ضمانت  رواں ماہ 23 دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانے کے عوض منظور کر لی ہے۔

مزید پڑھیے : ایل این جی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا مفتاح اسماعیل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

 حمزہ شہباز

گیارہ  جون کو لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی آمدن سے زائد اثاثے اور رمضان شوگر ملز کیس  میں درخواست ضمانت خارج کردی جس کے  بعد نیب نے انہیں گرفتار کرلیا ۔

مزید پڑھیے : نیب نےحمزہ شہباز کو گرفتار کرلیا

فریال  تالپور

جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہمشیرا فریال تالپور کو14 جون  کوگرفتار کیا ۔تاہم 17 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی  کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔

مزید پڑھیے :جعلی اکاؤنٹس کیس: فریال تالپور گرفتار

خورشید شاہ

قومی احتساب بیورو(نیب) نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کو  18 ستمبر2019 کوآمدن سے زیادہ اثاثوں کے الزام میں گرفتار کیا ۔تاہم  17 دسمبر کو سکھر کی احتساب عدالت نے ان کی  ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا،احتساب عدالت نے خورشید شاہ کو 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکےبھی جمع کرانے کا حکم دیا ۔

مزید پڑھیے : نیب نے خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا

Khurshid Ahmed Shah

آغا سراج درانی

  رواں  برس  20 فروری کو  قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ اسمبلی کے اسپیکرو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے آمدن سے  زائد اثاثوں اور سرکاری فنڈز میں خورد برد کے کیس میں  گرفتار کیا تھا۔تاہم13دسمبر کو  سندھ ہائی کورٹ نے آغا سراج درانی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے  10 لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیے : نیب نےآغاسراج درانی کواسلام آبادسےگرفتارکرلیا

احسن اقبال

قومی احتساب بیورو(نیب) راولپنڈی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو’نارروال اسپورٹس سٹی کمپلیکس کیس‘ میں 23 دسمبر کو گرفتارکیا۔

مزید پڑھیے : مسلم لیگ(ن)کےرہنمااحسن اقبال کوگرفتارکرلیاگیا

کامران مائیکل

قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے پاکستان مسلم لیگ نون کے سابق وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ کامران مائیکل کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں رواں  برس 8 فروری کو گرفتار کیا۔

مزید پڑھیے : نیب کراچی نے سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل کو گرفتار کرلیا

نیب کراچی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا تھا کہ  ‘سابق وفاقی وزیر نے 2013 میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پلاٹس کی الاٹمنٹ کے لیے عہدیداروں پر دباؤ ڈالا’۔ پلاٹس کی مالیت کے حوالے سے نیب کا کہنا تھا کہ کے پی ٹی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں تین قیمتی پلاٹس کی مالیت ایک ارب 5 کروڑ ارب روپے ہے۔

خیال رہے کہ نیب نے کراچی کی احتساب عدالت میں 16 پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا ریفرنس دائر کر رکھا ہے جہاں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران کامران مائیکل کی جانب سے رشوت لینے کا انکشاف ہوا تھا۔

محسن  داور

لوگوں کو مشتعل کرکے چیک پوسٹ پرحملے کرنے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے میں ملوث پشتون تحفظ موومنٹ کے مفرور رہنماء محسن داوڑ کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران 30مئی 2019 کو گرفتار کیا۔

مزید پڑھیے :  پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ شمالی وزیرستان سے گرفتار

علی وزیر

25 مئی 2019 کو   وزیرستان کے علاقے خارکمر میں فائرنگ کے تبادلے میں 3 افراد ہلاک اور 5 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے تھے۔  26 مئی کو آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے بعد پاک فوج نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو ان کے 8 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا تھا جبکہ رکن قومی اسمبلی محسن جاوید داوڑ موقع سے فرار ہوگئے تھے، ان پر عوام کو اکسانے کا الزام ہے۔

علیم خان

پاکستان تحریک انصاف کے سینیر رہنما اور وزیر بلدیات اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ پنجاب عبدالعلیم خان کو قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور  نے 6 فروری کو  آمدن سے زائد اثاثے، آف شور کمپنیز اسکینڈل اور  پیسوں کی منتقلی کے کیس میں گرفتار کیا تھا۔ تاہم  15 مئی کو لاہو رہائیکورٹ نے علیم خان کی درخواست ضمانت منظورکرتے  ہوئے دس دس لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ۔

مزید پڑھیے : عدالت نے علیم خان کی درخواست ضمانت منظورکرلی

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay