ببول کے درخت سے کانٹے پیدا ہوتے ہیں گلاب نہیں

تحریر: علمدار حیدر

2020 کا پاکستان کیسا رہے گا ؟یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے اور گونجنا بھی چاہیے کیونکہ گزرے ہوئے ان گنت سالوں میں کسی حکومت نے نہ ہی بے روزگاری کا خاتمہ کیا اور نہ ہی مہنگائی کی روک تھام کی ڈیڑھ سال قبل قائم ہونے والی عمران خان کی حکومت سے عوام کی توقعات اتنی زیادہ تھیں کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ کرپشن کے ماہرین آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف سے جان چھوٹنے کے بعد ملک کی صورتحال سدھر جائے گی لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔

عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنی تحریک میں عوام کے جذبات کی بھر پور ترجمانی کی انھوں نے غربت کے خاتمے سماجی انصاف کے قیام کے لئے ایسے نعرے دئیے کہ عوام کو یہ یقین آگیا کہ عمران خان ان کا حقیقی لیڈر ہے یہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے پاکستان کے لئے دیکھے گئے خواب کی تعبیر پوری کرے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا اس کی وجوہات کیا ہیں آئیے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعدہی پاکستان دنیا کی سپر پاور امریکہ کے زیر اثر آ گیا تھا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد ان کے ساتھی نوابزادہ خان لیاقت علی خان نو مولود مملکت کے وزیر اعظم بنے اس وقت دنیا دو کیمپوں میں بٹی ہوئی تھی سوشلٹ کیپمپ اور کیپیٹلسٹ کیمپ۔ سوشلٹ کیمپ کے سرخیل سوویٹ یونین روس نے لیاقت علی خان کو روس آنے کی دعوت دی جبکہ اس کے بعد کیپیتلسٹ کیمپ کے سرخیل امریکہ نے امریکہ انے کی دعوت دی لیاقت علی خان امریکہ دعوت قبول کرلی اور وہ ایک وفد کے ہمراہ امریکہ گئے امریکہ میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا وہ کامیاب دورے کے بعد پاکستان آ گئے۔

بائیں بازو کے لوگوں نے لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انھوں نے سامراجی کیمپ میں پاکستان کو ڈال دیا جبکہ وکی لیکس نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ لیاقت علی خان نے امریکہ کی شرائط نہیں مانی تھیں جس کی وجہ سے امریکہ نے انھیں افغانستان سے سید اکبر نامی شخص کے ذریعے کمپنی باغ راولپنڈی جو اب لیاقت باغ کہلاتا ہے میں جلسے عام میں قتل کرادیا یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لیاقت علی خان جلسے میں خارجہ پالیسی پر تقریر کرنے والے تھے جس میں وہ آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کا اعلان کرنے والے تھے ۔

لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے رہنما خواجہ ناظم الدین نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی انھوں نے جہانگیر پارک کراچی کے ایک جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کی بات دہرائی تو امریکہ کے حامیوں نے ملک میں گندم کی قلت پیدا کرکے ناظم الدین کے خلاف کردار کشی شروع کردی امریکی سازشوں کے ذریعے جلد ہی مخلص رہنما کو منصب سے ہٹا دیا گیا اور ملک میں سول بیوروکریسی کے ذریعے حکمرانی شروع کردی گئی۔

حسین شہید سہروردی اور دیگر رہنماوں نے بے آئین ملک کو1956کا دیا جس کے تحت عام انتخابات ہونے والے تھے جسمیں زیادہ امکان تھا کہ امریکہ مخالف سیاسی جماعت عبدالحمید بھاشانی کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی مغربی اور مشرقی پاکستان میں کامیاب ہوجائے گی امریکیوں نے پھر سازش کی اور اسکندر مرزاکے ذریعے آئین تڑواکر مارشل لگا دیا جس کے تھوڑے دنوں بعد جنرل محمد ایوب خان اسکندر مرزا کی ہٹاکر خود مارشل لا ایدمنسٹریٹر بن گئے۔

انھوں نے امریکہ سے سیٹو سینٹو جیسے دفاعی معاہدے کئے ان معاہدوں کے باوجود 1965 کی پاک بھارت جنگ میں اور ڈھاکہ کی علیحدگی کے وقت پاکستانی امریکہ کے بحری بیڑے کا انتظار ہی کرتے رہ گئے اور کوئی مدد نہیں آئی۔

1970 کے عام انتخابات مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الر حمان نے بھاری اکثریت حاصل کی اور بھٹوکو مغربی پاکستان سے بھٹو نے الیکشن میں کامیابی کے بعد یہ بیان دیا کہ جو کام امریکہ کے ڈالر اور برطانیہ کے پونڈ نہ کر سکے وہ میں نے کرڈالا انھیں بھی امریکہ کی آشیرواد سے اقتدار حاصل ہوا لیکن لب انھوں نے امریکہ کی مرضی کے خلاف ایٹمی منصوبہ شروع کیا اور اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی تو انھیں جنرل ضیاء کے ذ ریعے اقتدار سے اتار دیا گیا اور ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے پھانسی پرچڑھا دیا گیا۔

جنرل ضیا امریکی آشیرواد سے مارشل لاء لگا گر حاکم بنے اور جب انھوں نے امریکہ کی پالیسیوں کے خلاف کام کرنے کوشش کی تو ان کو بھی سزا دی گئی اور وہ بھی طیارے کے سانحے میں جان سے گئے یہ سلسلہ اب تک جاری ہے بے نظیر بھٹو کی شہادت نواز شریف کا اقتدار سے اتارا جانا سب امریکہ کی مرضی سے ہوتا رہاہے۔

امریکہ نے پاکستان میں فوجی اور سیاسی دونوں طرح کے حکمرانوں کو اپنے قومی مفادات کے لئے استعمال کیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔گزشتہ ڈیڑھ سال سے عمران خان کی حکومت قائم ہے لیکن جو نعرے اور وعدے انھوں نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے کیے تھے شاید وہ بھول گئے عوام یہی سمجھ رہے ہیں کہ پیٹرول ،بجلی اورگیس کی قیمتیں، آٹا چاول پھل سبزیوں کی آسمان سے برھتی ہوئی قیمتیں عمران خان نے بڑھائی ہیں وہ عوام کو بیروزگاری سے نجات دلانے کے وعدے بھول چکے ہیں۔

ایسا نہیں ہے آج جو کچھ پاکستان میں ہورہا ہے وہ ورلڈ بینک ،آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے زریعے امریکہ کروا رہا ہے۔ پاکستان کی اقتصادیا ت کا بیڑہ غرق کچھ زرداری نے کیا تھا اور زیادہ میاں نواز شریف نے کیا اس بگڑی ہوئی معیشت کو سدھارنے کے لئے عمران خان بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

دیڑھ سال بعد اب یہ کہا جارہا کہ اقتصادیات بہتر ہو رہی ہے اور اس سال عوام کو روزگاراور مہنگائی سے نجات مل جائے گی اشیائے خورد نوش سستی ہوجائیں ملک کے مختلف علاقوں سے تیل اور گیس کے ذخائر نکل آئیں گے خدا کرے ایسا ہو جائے اقتصا دیات کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ جن ملکوں کی اقتصادیات آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ہدایت پر چلتی ہیں وہاں خوش حالی کبھی نہیں آ تی۔ وہ مصر کی مثال دیتے ہیں جو پاکستان ہی جیسے تھے اور وہ اب مزید خراب ہو چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی مثال ببول کے درخت طرح ہے جس سے صرف کانٹے پیدا ہوتے ہیں گلاب نہیں سوچنے والی بات ہے سال نو کی آمد کی پہلی تاریخ کو عوام کو مہنگائی کا تحفہ دینا کونسی عقلمندی ہے ۔

مشیر خزانہ اسٹیٹ بینک کا گورنر اور دیگر کئی حکومتی عہدیدار امریکی وفادار ہیں پاکستان کے ہر طبقے میں امریکہ کے وفاداروں کا قبضہ نظر آتا ہے جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے پاکستان کے لیاقت علی خان جنرل ایوب خان ذوالفقار علی بھٹو جنرل ضیا االحق پرویز مشرف بے نظیربھٹو اور میاں نواز شرف سب ہی امریکہ کے کہنے پر بر سر اقتدار آئے اور انھوں نے جب اختلاف کیا تو اقتدار سے اتار دئیے گئے یا موت کی نیند سلادئیے گئے بین الا قوامی سیاست کو سمجھنا اور چلنا تلوار کی تیز دھار پر چلنا ہے اور عمران خان کو بہت سنبھل کر چلنا ہوگا ورنہ پاکستان کا حشر بھی مصر جیسا ہو سکتا ہے کیونکہ ببول کے درخت سے کانٹے پیدا ہوتے ہیں گلاب نہیں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay