ایسا ہو گا کب ؟  

 تحریر : مطیع الرحمن 

گزشتہ روز قریبی عزیزوں  کی آمد کے سبب انہیں لینے جانے کے لیے  کینٹ اسٹیشن جانا ہوا ۔ٹرین کو شیڈول کے مطابق  صبح ساڑھے گیارہ   بجےکراچی پہچنا تھا ،لیکن  حسب معمول ٹرین لیٹ  ہوتے ہوتےشام  سوا پانچ بجے کراچی اسٹیشن  پہنچی ۔اس دوران کا انتظار  مجھ سمیت  سینکڑوں لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بنا۔

 پاکستان میں ٹرینو ں  کا  روزانہ  دو  سے تین گھنٹے لیٹ ہونا  معمول کی  بات ہے اس لئے  اس بارے میں بولنا مطلب  بھنیس کے  آ گے بین  بجانا ہے   کیونکہ  اس مسئلے پر مجھ سے پہلے کئی صحافی ناصرف قلم کشائی  کر چکے ہیں بلکہ ساتھ  ساتھ  اس مسئلے کا  حل بھی   بتا  چکے ہیں ۔ لیکن  حرام ہے کہ  کسی کے کان  پر  جوں  بھی  رینگی  ہو ۔

مگرکل جب میں  نےخود اس  بات کا تجربہ کیا تو  واقعی مجے احساس ہوا ہے کہ یہ  ایک توجہ  طلب مسئلہ  ہے  کیونکہ  اس سے  عوام کو شدید مشکلات کا  سامنا ہے  ۔ٹرین  کے  تاخیر  سے  آنے پر  ایک  طرف وقت  کا  ضیاں  ہوتا  ہے  تو  دوسری طرف  ریلوے اسٹیشنوں پر ملنے والا کھانا انتہائی ناقص ،  مہنگا اور غیر معیاری ہے جس  سے  عوام پر  ایک تو  اضافی  اخراجات کا  بوجھ پڑتا ہے بلکہ  صحت  بھی  خراب ہو نے کے  قوی  امکانات  ہوتے ہیں  ۔

موجودہ وفاقی وزیرِ ریلوے  شیخ رشید احمد  اس وزارت کا کافی وسیع تجربہ رکھتے ہیں انہوں نے  مسلم لیگ ق کےدورِ حکومت میں ریلوے ٹریک کو ڈبل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب تک اس سمت کوئی  اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ اگر  اس ضمن میں  کچھ  کیا  جاتا  تو  یقیناً  ٹرینوں کی تا  خیر  کا  مسئلہ  اگرچہ  حل  نہیں  ہوتا تو اس کی کیفیت میں کچھ  بدلاؤ ضرور آتا  ۔

میرے  قریبی  عز یز  نے  دوران  انتظا ر مجھےاپنے لاہور  سے  کراچی  سفر کا  احوال  سناتے ہو ئے  بتا یا کہ  ان کی  ٹرین  صرف  اس  وجہ  سے  لیٹ  ہوئی  تھی  کیونکہ  ان کے  آ گے  جو  دو  ٹرینں  تھیں  نہایت  سست  روی کا  شکار  تھیں    ۔  اسکی وجہ  واضح  ہے  کہ  پاکستان  بننے کے  بعد  سے  اب  تک  پورے ملک میں  ایک ہی  ٹریک ہے اگر  کسی  خرابی  یا  حادثے کی  وجہ  سے  ایک  گاڑی  پھنس جائے  تو  اس کے  پیچھے  آنے  والی  ہر  گاڑی کا  شیڈول متاثر ہوتاہے  ۔ اگر  وزیر  ریلوے اس  وقت ہی   ٹریک کے معاملے  کو  سنجیدہ  لے لیتے تو  اب  تک  شاید  یہ منصوبہ  مکمل ہوچکا  ہوتا ۔

کراچی کینٹ اسٹیشن کی تزین وآرا ئش  کا کام    گزشتہ دورِ حکومت میں کیا گیا  لیکن  اس عمل کے دوران  انتظامیہ کی توجہ مسافروں کےلیے  نشستوں کی جانب نہ جا سکی جس کی  وجہ سے  کل جب ساری ٹرینیں تاخیر کا شکار تھیں تو مسافرسردی کے باوجود زمین پر  بیھٹنے پر مجبور تھے۔

اس میں  کوئی  دورائے نہیں  ہے کہ پاکستان کے طول وعرض میں روزانہ ہزاروں افراد ایک جگہ  سے  دوسری  جگہ  سفر کرتے ہیں جن کا  پہلے  زریعہ  آمد  رفت  ٹرین  تھالیکن ریلوے کے ناقص نظام کی وجہ سے وہ مجبور ہو کر بسوں سے  سفر کر رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے قومی خزانہ وسیع آمدنی سے محروم ہو رہا ہے ۔

میرا چونکہ سال میں دو تین بار ٹرین سے واسطہ پڑتا ہے اور فیملی والوں  کی پہلی ترجیح بھی ٹرین ہی کا سفر ہوتاہے اس سلسلے میں چند اہم اقدامات نہایت اہم اورنا گزیر ہیں ۔ جیسے پاکستان ریلوے کی کروڑوں مالیت کی  بوگیاں و مال گاڑیاں مختلف اسٹیشنوں پر کھڑی تباہ ہورہی ہیں ،انہیں فوری طور مرمت  کروا کے فعال کیا جائے ۔

ریلوے کے تمام بڑے اسٹیشنز پر پانی کا باقاعدہ انتظام کیا جائے ،کیونکہ سفر کے دوران کراچی سے راولپنڈی تک کئی مرتبہ مشاہدے میں  آیا ہےکہ  پانی  کھارا ہوتا ہے جس کے سبب مسافر  پانی کی بوتلیں  خریدتے ہیں  اور خرچ  میں  اضافہ ہوتا ہے۔

ایک  اور  توجہ  طلب بات یہ ہے کہ ہر سال کرایوں میں اضافے کے بجائے اگر محکمہ کرپشن کے خاتمے کی  طرف  جانب  توجہ  دے تو  کوئی  شک نہیں  کہ  یہ مسائل  اس طرح  حل ہو جائیں  گے  جیسے  کبھی  تھے ہی  نہیں ۔

مگر  سوال  یہ  ہے کہ  ایسا ہو گا کب ؟ ہمیں  تو  انتظار ہی ہے  کہ  کب نو  من   تیل ہو گا  کب  رادھا  ناچے گی ؟

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay