منفرد لہجہ ، منفرد انداز : نامور شاعر محسن نقوی کی 25 ویں برسی

اردو ادب کے قادر الکلام اور دلوں کو چھو لینے والی شاعری کے خالق  محسن نقوی کی آج 25ویں برسی منائی جارہی ہے ۔

اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں

اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

محسن نقوی 5 مئی 1947ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ اُن کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ’’ محسن ‘‘اُن کا تخلص تھا اور’’ نقوی ‘‘کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ بحیثیت ایک شاعر اُنہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی سے تبدیل کرلیا اور اِسی نام سے  شہرت پائی۔

آپ نے ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے اردو میں ایم اے کیا تھا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہوگئے اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔

محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا لہٰذا اسی تناظر میں ان کی رومانوی شاعری بھی خاصی مقبول تھی۔

ذکر شب فراق سے وحشت اسے  بھی  تھی

میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

محسن نقوی  کے مجموعہِ کلام میں’’عذابِ دید‘‘، ’’خیمہ جاں‘‘، ’’برگ صحرا‘‘، ’’بندِ قبا‘‘، ’’موج ِ ادراک‘‘، ’’طلوع ِ اشک‘‘، ’’حق ِ ایلیا‘‘، ’’ریزہ حرف ‘‘ اور دیگر کتابیں شامل ہیں۔

اردو ادب کے اس دمکتے چراغ کو 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھادیا گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ

سفر   تو    خیر   کٹ   گیا

میں  کرچیوں  میں  بٹ  گیا

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay