امریکا ، سعودی عرب اور ایران

تحریر : علمدار حیدر

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے عراق میں قائم دو امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں سے حملہ کرکے اس کا جواب دیا یہ بھی اطلاع ہے کہ عراق میں امریکہ کے سفارتخانے پر بھی ایران نے میزائل داغے ہیں امریکہ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد دنیا کے بیشتر ملکوں میں اسٹاک مارکیٹس نیچے آگئی ہیں۔ تیل اور سونے کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایران سے غیر مشروط مزاکرات کے لئے تیار ہیں انھوں نے ایران سے ایٹمی مسئلے پر گفتگو پر آمادگی ظاہر کی ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ جنگی معاملات میں دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے اگر اس کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی تو وہ بھرپور جواب دے گا جبکہ دنیا یہ چاہتی ہے کہ اب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نہ ہو تو بہتر ہے ۔

عراقی وزیر اعظم علی مہدی کا یہ کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی ایرانی روحانی رہنما آیت اللہ علی خامہ نائی کی ہدایت پر سعودی شہزادے محمد بن سلمان سے ملاقات کرکے ایران اور سعودی عرب میں تعلقات بہتر کرنے کے لئے جانے والے تھے لیکن عراقی ائیرپورٹ ڈرون حملے میں شہید کردئیے گئے اہم بات یہ ہے کہ اگر سعودی عرب اور ایران میں تعلقات بہتر ہوجائیں تو مشرق وسطی کی سیاست یکسر بدل جائے جو امریکہ کو پسند نہیں۔

  پاکستان کے وزیراعظم عمران  نے کہا ہے وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے بھرپور کوششیں  کریں گے  سوال یہ ہے کہ تصادم تو امریکہ اور ایران کے درمیان ہوا پھر عمران خان سعودی عرب کو کیوں سامنے لائے سعودی عرب نے بھی امریکہ ایران تصادم کے درمیان کوئی منفی رویہ اختیار نہیں کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے سابق امریکی صدر بارک اوباما کے ایران سے کئے گئے ایٹمی مسئلے پر کئے گئے معاہدے کو توڑ دیا ہے جبکہ اس معاہدے میں شریک یوروپی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کی حمایت نہیں کرتے امریکہ میں بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کو پزیرائی نہیں ملی تھی یہی وجہ ہے کہ ایران سے تصادم یا جنگ کی کی کوئی صورت سامنے نہیں آئی۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو اس سال انتخابات بھی لڑنا ہے انھوں نے کہا تھا کہ وہ امریکی فوجوں کو دنیا کے بیشتر ممالک سے واپس بلالیں گے لیکن ابھی تک وہ افغانستان  میں طالبان سے مزاکرات میں کامیاب نہ ہو سکے ،مشرق وسطیٰ   کے کئی ممالک میں امریکی ادارے اور امریکی فوجیں موجود ہیں ایران اور عراق کا یہ کہنا ہے امریکہ اپنی فوجوں کو مشرق وسطیٰ سے نکالے ڈونلد ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ سے داعش کے نکالے جانے اور ابوبکر بغدادی کو قتل کرانے کا بھی کہا جبکہ جنرل قاسم سلیمانی بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف نبرد آزما تھے جس میں انھیں خاصی کامیابی ملی تھی۔

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایران نے لبنان عراق شام اور کئی ملکوں میں اپنی پراکسییز بنائی ہوئی ہے جبکہ ایران کا یہ کہنا ہے ایرانی انقلاب کو ناکام کرنے کے لئے امریکہ مسلسل کوششوں میں مصروف ہے ایران اپنے انقلاب کو بچانے کے لئے شام عراق لبنان فلسطین کے لوگوں کی حمایت کرتا ہے تو کیا بری بات ہے ایران کا یہ بھی کہنا ہے پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی ادارے اور امریکی فوجیں  موجود ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں اگر سعودی عرب اور ایران کے مابین بہتر تعلقات قائم ہو جاتے ہیں تو اس خطے میں امریکی مداخلت کا جواز ختم ہوجائے گا۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay