سوشل میڈیا پر کچھ بھی بنا تحقیق و تصدیق شیئر یا پوسٹ نہ کریں

تحریر : مطیع الرحمن

سوشل میڈیا معلومات کی فراہمی اور خبروں کی ترسیل و اشاعت کا مؤثر پلیٹ فارم ہے،جہاں ہر شخص بلا روک ٹوک اپنے خیالات اور نظریا ت کا اظہار کر سکتا ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جو بات وہ کر رہا ہےوہ کس طرح کسی کو متاثر کر رہی ہے ۔ کچھ لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ وہ بلا تحقیق و تصدیق جو دیکھا جیسے دیکھا شیئر اور پوسٹ کردیتے ہیں اب بھلے سے انکی جانب سے دی گئی معلومات درست اورحقیقت پر مبنی ہیں یا نہیں اس کی ان کو پرواہ بھی نہیں ہوتی ۔

لیکن میرا یہ خیال ہے کہ جب ہر کوئی بلا تحقیق اور بے مقصد پوسٹنگ کرنا شروع کر دے اس سے معاشرے اور اس میں رہنے والے افراد کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ہر کوئی مصلح اعظم بننے کی کوششں میں لگا ہوا ہے ،اور اکثر اوقات یہ بھی دیکھا کہ کچھ پوسٹیں ایسی بے تکی ہوتی ہیں کہ اس پر صرف افسوس کرنا ہی کافی نہیں بلکہ انکا مناسب جواب دینا بھی ضروری ہوتا ہے ۔

کبھی کبھی تو بہت سی تصاویر اور تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کے زریعے شیئر کرنے والا کیا پیغام دینا چاہتا ہے کچھ سمجھ نہیں آتا۔

بحیثیت صحافت کا طالب علم مجھے لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ بھی بنا تحقیق کے پوسٹ نہیں کرنا چاہیے مگر اس میں کچھ پوسٹ ایسی بھی ہوتی ہیں جنکے شئیر کرنے سے پہلے شیئر کرنے والے کے مقاصد کا جاننا ضروری ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے معاشرے کے اچھے اقدامات کو منفی انداز میں پیش کرنے میں دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں؟
ویسے تو عجیب و غریب اور بے سروپا تحریروں کی لمبی فہرست ہے جو علیحدہ مضمون کا تقاضہ کرتی ہےلیکن ان میں سے ایک پوسٹ میری موضوع تحریر ہے جو آج میری نظروں سے گزری جس میں ایک غریب بچی دکھائی گئی ہے جس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں اور ساتھ ایک شعر لکھا تھاجس کا مفہوم یہ تھا کہ یا اللہ آپ کی مسجد میں بچھا قالین میری غربت کی توہین ہے ۔

جس نے بھی یہ پوسٹ بنائی اور  اس کو شیئر کیا اس نے بچی کے پرانے پھٹے ہوئے کپڑوں کا مسجد میں بچھے قالین کے ساتھ موازنہ کیا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کا تقابل ایک فضول خرچی والے اعلیٰ لباس سے کیا جاتا، یا پھر شادی میں پہنے جانے والے اُس عروسی جوڑے سے کیا جاتا جو عروسہ ایک بار پہنے کے بعد شازو نادر ہی پہنی دیکھائی دیتی ہے ، یا شادی بیاہ یا دیگر تقاریب میں ہونے والے فضول اور غیر ضروری اخراجات سے کیا ۔ اس موازنے کو عقل و فہم ماننے کو تیار نہیں ، اور بلفرض مسجد کے قالین کو نشانہ بنانا ہی ہے تو ایسی بےشمار مساجد موجود ہیں کہ جہاں قالین تو کجا فرش بھی پکے نہیں چھتیں بھی ٹھیک نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ پوسٹ تخلیق کرنے والے کو مسجد کا قالین چب رہا ہے اور عجیب حیرت کی بات یہ کہ اشرفیہ کے پاؤں تلے روندے جانے والےلاکھوں کے سرخ قالین کسی کو نظر نہیں آتے۔ اس موازنے کو میری تو عقل و فہم ماننے کو تیار نہیں ۔

سوال یہ ہے کیا ایک بوڑھا یا بیمار شخص مسجد میں آ کر قالین پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو کسی کو اس پر تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ یا اگر مسجد کی صفائی میں سہولت ہوتی ہے یا سردی میں کمی آتی ہے تو یہ کون سی فضول خرچی ہے؟ اور دوسری بات یہ ہے کہ مسجد میں قالین کتنا عرصہ چلتا ہے دس دس سال تک اور اس کے خریدنے کاخرچہ دیگر فضول رسومات سے بہت کم ہے جسے پورا کرنا معاشرے کی اکثریت ضروری سمجھتی ہے ۔

میں اس سے کسی صورت انکاری نہیں کہ غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال نہ رکھا جائے بلکہ  ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔ لیکن جہاں جو کام اچھا ہو رہا ہے اس کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہےاوراسی جگہ ہزاروں جو برےاور فضول کام ہو رہے ہیں اس کی طرف کیوں نہیں توجہ دلائی جاتی ؟؟،ہونا تو چاہیے تھا کہ غلط کو غلط کیساتھ ملایا جاتا لیکن یہاں تو ایک درست و اچھے عمل کو غلط بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔

پانچ وقت مسجد میں نماز پڑھنے والے فرد کی حیثیت سے میرا نہیں خیال کہ ہم ایک اجتماعی فائدے کی چیز کو کسی ذاتی فرد کے ضرورت سے مقابلہ کروائیں ،جس سے یہ کام بھی بے مقصد نظر آنے لگے ۔میں ایک مرتبہ پھر واضح کر دوں کہ مجھے بھی اس بچی کے پرانے کپڑوں اور بھوکے پیٹ کا احساس ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ غریب کا خیال ضروری ہے اور اسکے حق کیلئے آواز اٹھانا بھی احسن اقدام ہے۔ لیکن اس کے لیے درست سمت اور درست اقدام کو بروئے کار لانے کی دعوت دی جائے ۔

مسجد خدا کا گھر ہے اور اس کی دیکھ بھال اور خیال ہر مسلمان کی دلی خواہش ہے ، نہ صرف اسلام بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکار بھی اپنی عبادت گاہوں میں ہر ممکن سہولیات پہچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہر گز کوئی شخص بھی مسجد کی چیزوں کی توہین کرنے کا سوچ نہیں سکتا لیکن مجھے لگتا ہے کہ انجانے میں ایسی غلط پوسٹوں کو شئیر کر نے والے انکی بے تو قیری کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔

میرا خیال ہے کہ ہمارا کسی اچھی خبر تحریر و تصویر کو پھیلانا ایک اچھا اور حوصلہ افزا عمل ہے اور ہمیں خیر کو پھیلانے میں اور برائی کو رد کرنے میں ضرور حصہ لینا چایئے۔

لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے ہمارے بعض نادان دوست بغیر دیکھے ہر طرح کا کچرا اٹھا کے اپنے بیگ میں ڈال دیتے ہیں مطلب ، مطلب جو دیکھا جہاں دیکھا اٹھا کے شیئر کر دیا اس سے اجتناب ضروری ہے ۔ کوئی بھی پوسٹ شیئر سے پہلے ایک مرتبہ سوچیے ! ضرور سوچیے کہ ہم کیااور کیوں شیئر کر رہے ،ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ ہمارے ایک ایک عمل کا حساب ہوگا ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay