آٹا مہنگا، چینی مہنگی، مہنگی ہر ایک شے

تحریر: علمدار حیدر

پاکستا ن وہ ملک بن چکا ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔آٹا مہنگا ،چینی مہنگی، مہنگی ہر ایک شے۔ اس کی وجہ بد انتظامی پلس کرپشن ہی قرار دی جا سکتی ہے جبکہ ہر سیاسی رہنما اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کا وعدہ کرتا ہے۔

مزید پڑھیے : چینی کی ہول سیل قیمت میں 4 روپے کلو اضافہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے بھی اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں یہی نعرہ شدومد سے لگایا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کا سبب کرپٹ سیاستداداں اور کرپشن ہے۔وہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کردیں گے اس لئے پاکستان کے غریب عوام نے 2018 کے انتخابات میں انھیں کامیاب کرایا۔

عمران خان کی حکومت قائم ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ بیت گیا ہے اب مہنگائی اور بے روزگاری ماضی کے دو کرپٹ حکومتوں سے دوگنی ہوچکی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام کی بنیادی غذا آٹا ہے جو آج کل70 (ستر) روپے کلو بک رہا ہے ۔

مزید پڑھیے:آٹا ایک دن میں کم از کم 10 روپے کلو مہنگا

غریب سے غریب انسان جو کہ دو روٹیاں کھاکر سکون سے زندگی کی سانس لے سکتا ہے، حکمرانوں کی بد انتظامی نے وہ اس کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے آٹے اور چینی کے دام پر آئی ایم ایف کا کنٹرول نہیں حکومت فوری ان اشیا کی قیمتیں کم کرنے کے اقداما ت کرے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان یہ کہتے تھے کہ پیٹرول گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب حکمرانوں کی کرپشن ہے تو ہم عمران خان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اب کرپشن کون کر رہا ہے؟ بات بہت سادہ سی ہے جب آئی ایم ایف کی ہدایت پرپیٹرولیم اشیاء گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی تو پھرآ ٹا ،دال اورچاول سمیت ہر شے کی قیمت بڑھ جائے گی ۔

مزید پڑھیے : آئی ایم ایف اور پاکستان

آئی ایم ایف کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں ہوگی کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی اکثریت کس مشکل سے دوچار ہوگی کیونکہ مہنگائی میں اضافے کے ساتھ اجرتوں اور تنخواہوں میں تو اضافہ نہیں ہورہا ہے۔

مزید پڑھیے : اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دیدی

عمران خان کی حکومت کا مسئلہ یہ بھی ہے وہ اب تک ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اچھی حکومت قائم نہیں کرسکی ہے ۔پولیس اور بیووکریسی کی بار بار تبدیلیوں کے باوجود جرائم، کرپشن اورزخیرہ اندوزی قابو میں نہیں آ سکی ہے ۔

آٹے کی ہوش ربا قیمت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے خیبر پختونخواہ کی کارکردگی بھی اچھی نظر نہیں آرہی ہے بلوچستان جیسے حساس صوبے کے عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے، وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں ۔جبکہ سندھ میں گزشتہ بارہ سال سے پیپلز پارٹی کی مہا کرپٹ حکومت قائم ہے جسے عوام کی کوئی فکر نہیں مہنگائی بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔

محسوس یوں ہورہا ہے کہ عمران خان کی حکومت بین الاقوامی اداروں کے دباؤ میں ملک کو اور اس کے عوام کو ایک ایسے مقام پرلانا چاہتی ہے جہاں سے سدھار کا کوئی راستہ نہ بچے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay