فلم‘زندگی تماشا’ نمائش موخر: تنقیدی جائزے کیلئےاسلامی نظریاتی کونسل بھیجنےکا فیصلہ

صوبہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی  فلم ’زندگی تماشا‘ کی نمائش روک دی ، مرکزی فلم سنسر بورڈ نے’زندگی تماشا‘ کو تنقیدی جائزے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل  بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

تفصیلات کےمطابق وزیراعظم  پاکستان  کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ مرکزی فلم سنسر بورڈ نے فلم ’زندگی تماشا‘ کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پروڈیوسر کو فلم کی ریلیز مؤخر کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

پنجاب حکومت نے بھی  فلم ’زندگی تماشا‘ کی 24 جنوری کو ریلیز روکتے ہوئے فلم  پر نظر ثانی  کے لیے 3 فروری کی تاریخ دی ہے جبکہ سندھ  حکومت نے فلم کی نمائش پر پابندی عائد کردی ہے۔

جس کا نوٹفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ، نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فلم کی نمائش امن وامان کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔

فلم‘زندگی تماشا’ کے ہدایتکار سرمد کھوسٹ نے اپنے گزشتہ خط میں لکھا تھا  کہ اس فلم کی کہانی صرف ایک اچھے مسلمان کی ہے، میں نے اس میں کسی فرقے، اور پارٹی نام نہیں لیا، یہ فلم ایک اچھے مولوی کے حوالے سے ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay