کشمیرجنت نظیر وادی میں کب کیا ہوا؟

مسئلہ کشمیر کی تاریخ انڈیا اور پاکستان کی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے ۔ دونوں ممالک اس تناظر میں  دو جنگیں لڑ چکے ہیں ۔

16 مارچ 1846: برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی اور جموں کے راجہ گلاب سنگھ کے مابین امرتسر کے دوسرے معاہدے پر دستخط کے ساتھ جموں و کشمیر (ریاست کی سلطنت) تشکیل دیگئی۔
اس معاہدے کے تحت ریاست کشمیر کو 750000 لاکھ کے عوض راجہ گلاب کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔

:1931 مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف تحریک شروع ہوئی جسے ریاستی فوج نے اسے بے دردی سے دبا دیا گیا۔

13 جولائی:1931 ۔ نماز ظہر سے قبل اذان دیتے ہوئے 22 نوجوانوں نے جان شہادت نوش کیا ۔

جولائی 1946: مہاراجہ کشمیر نے اعلان کیا کہ کشمیری بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

19جون 1947: لارڈ ماؤنٹ بیٹن 5 دن کے لیے کشمیر آئے تاکہ مہاراجہ کو ہندوستان یا پاکستان جانے پر راضی کیا جائے۔

11جولائی 1947: محمد علی جناح نے اعلان کیا کہ اگر کشمیر نے آزادی کا انتخاب کیا تو پاکستان کے ساتھ اس کے دوستانہ تعلقات ہوں گے۔

23اگست 1947: سردار عبد القیوم خان کی سربراہی میں باغیوں نے مہاراجہ حکومت کے خلاف ضلع باغ میں ریاستی فوج پر فائرنگ سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔

24 اکتوبر 1947: پلندری میں سردار ابراہیم کی سربراہی میں آزاد کشمیر کی ایک عارضی حکومت قائم کی گئی ۔
27اکتوبر 1947 : مہاراجہ نے ریاست کو ہندوستانی یونین میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے معائدہ الحاق (IOA) پر دستخط کیے۔ ہندوستان نے الحاق کو قبول کیا ۔

 اکتوبر 1947: محمد علی جناح نے جنرل ڈگلس گریسے کو پاکستانی فوج کو کشمیر بھیجنے کا حکم دیا۔ گریس نے بھارت سے کشمیر کے الحاق کی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے انکار کردیا۔

31دسمبر 1947: ہندوستان نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس بھیج دیا۔

جنوری 1948: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 38 منظور کی جس میں بھارت اور پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ صورتحال کو بڑھاوا دینے سے باز رہیں۔

20 جنوری 1948: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 39 منظور کی جس میں تنازعہ کشمیر کی تحقیقات کے لئے 3 رکنی کمیشن کا اعلان کیا گیا۔

یکم جنوری 1949: ہندوستانی اور پاکستانی افواج کے مابین جنگ بندی نے وادی کشمیر ، بیشتر جموں اور لداخ کے کنٹرول میں ہندوستان چھوڑ دیا ، جبکہ پاکستان نے موجودہ آزادکشمیر ، گلگت ایجنسی اور بلتستان پر مشتمل مغربی اضلاع کا کنٹرول حاصل کرلیا۔

26 جنوری 1950: بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ ہوا جس میں ریاست جموں و کشمیر کو دفاع ، خارجہ اور مواصلات کے علاوہ خود مختار حیثیت دی گئی ۔

30 مارچ 1951 :  کو سلامتی کونسل نے امریکی سینیٹر فرینک پی گراہم کو نیا نمائندہ مقرر کیا اور تین ماہ میں دونوں ملکوں کی افواج کو کشمیر سے نکالے جانے کی تجویز دی لیکن پاکستان اور بھارت اس پر متفق نہ ہو سکے ۔

جولائی 1953: سائما پرشاد مکر جی نے 1952 سے کشمیر کے بھارت سے مکمل الحاق کے بارے میں جو تحریک شروع کر رکھی تھی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیخ عبداللہ نے کشمیر کی خود مختاری کی تجویز دے دی۔

فروری 1954: کشمیر کی اسمبلی نے بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا۔

14 جنوری 1957: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بار پھر 1951 کی قرارداد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسمبلی کسی طور بھی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا اختیار نہیں رکھتی اور نہ ہی یہ رائے شماری کا متبادل ہے۔

اگست 1965 : پاکستان نے وادی کشمیر میں آپریشن جبرالٹر شروع کیا ۔وادی کشمیر میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ، بعد ازاں یہ آپریشن پاک بھارت جنگ کی بنیاد بن گیا۔

2 جولائی 1972: ہندوستان اور پاکستان نے شملہ معاہدے پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں مسئلہ کشمیر کی آخری تصفیے کا فیصلہ دو طرفہ ہوگا اور دونوں فریقین ایل او سی کا احترام کریں گے۔

1990: پاکستان میں جماعت اسلامی سربراہ قاضی حسین احمد کی تجویز پر 5 فروری یوم کشمیر کے طور پر منایا گیا۔

21 فروری 1999: بھارتی وزیر ا عظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستانی وزیر اعظم نوازشریف نے اعلان لاہور پر دستخط کئے جس کے تحت کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا اعادہ کیا گیا۔

16 جولائی 2001: جنرل پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی نے امن مذاکرات کے لئے ملاقات کی۔

اپریل 2005: مظفر آباد سری نگر بس سروس شروع ہوئی۔

اگست 2014: بھارت نے یہ کہہ کر پاکستان سے مذاکرات ختم کر دیئے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے کشمیری علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرت کئے تھے ۔

 جنوری 2016:پٹھان کوٹ میں دو جنوری سنہ 2016 میں کو فضائی اڈے پر حملہ ہوا تھا۔ اس میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 20 تھی۔ جوابی حملے میں چار شدت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔جموں اور کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں 18 ستمبر 2016 کو انڈین فوج کے کیمپ پر حملہ ہوا تھا۔ اس میں 19 سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

8 جولائی 2016: کشمیری مجاہد برہان مظفر وانی کے قتل کے بعد وادی کشمیر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے۔ عائد کرفیو 50 دن سے زیادہ عرصہ تک جاری رہا ، اور ہندوستانی مسلح افواج کے ذریعہ 90 سے زیادہ افراد مارے گئے۔

جولائی 2017 : اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش بھی کی بشرطیکہ دونوں ممالک ان کی ثالثی پر راضی ہوجائیں۔

18 مارچ2018: بھارتی قابض فورسز نے اسرائیلی ساختہ کیمیائی مادے کو وادی کشمیری نوجوانوں کے مکانات کو تباہ کرنے اور لاشوں کو نذر آتش کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔

14 فروری 2019: پلواما میں ایک خود کش حملے کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔

5 اگست 2019: بھارتی حکومت نے آئین میں سے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا جو کہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا ۔اس طرح کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کر دیا گیا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay