اب تو ہے آزاد یہ دنیا ، پھر میں کیوں آزاد نہیں؟

سات دہائیوں سے کشمیری عوام ایک ہی سوال کر رہی ہے کہ جب ساری دنیا آزاد ہے تو میں کیوں آزاد نہیں ہوں ؟

پاکستان کو آزادی کے بعد جن بڑے مسائل کا سامنا تھا ان میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ کشمیر کا ہے جو اب تک صرف اور صرف بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حل نہیں ہو سکا ۔
پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی کہ یہ معاملہ دوستانہ ماحول میں بات چیت کے زریعے حال ہوجائے مگر جنگی جنون میں مبتلا بھارت کسی نہ کسی طرح جنگ کا ماحول بنانے میں مصروف ہے ۔

گزشتہ برس 6اگست میں بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا نے کشمیر کی علیحدہ حیثیت ختم کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کیا ۔اس سے قبل 5 اگست کو بھارت کے ایوان بالا راجیہ سبھا نے کشمیر کی علیحدہ حیثیت اور شناخت ختم کرنے سے متعلق’’جموں وکشمیرتنظیم نو بل، 2019‘‘ کو کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا۔ لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کو بھارت سے متحد نہیں رکھتا بلکہ اسے الگ کرتا ہے۔

تب سے اب تک بھارت نے وہاں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو نافذ کررکھا ہے اور تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہیں جبکہ تمام تعلیمی ادارے بھی غیر معینہ مدت کے بند کردیئے گئے ہیں ۔ تاہم مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن نقل و حرکت پر پابندی، انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کی بندش کے باوجود بھارتی حکومت کے خلاف مسلسل عوامی مظاہرے ہورہے ہیں جس میں آئے دن کشمیری نوجوانوں کو شہید اورعورتوں کی عزتوں کو پامال کیا جارہا ہے ۔

اگست2019

پانچ اگست کو قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذکر کے سابقہ وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر محبوبہ مفتی اور چیف منسٹر عمر عبداللہ کو نظر بند کردیا ۔

چھ  اگست کو ایڈووکیٹ ایم ایل شرما کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں صدر کے ان احکامات کو چیلنج کردیا گیا جس کے تحت آئین کی شق 370 کو ختم کیا گیا۔

چھ اگست کو ہی وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا ۔

سات اگست کو بھارت کے لوک سبھا (ایوان زیریں) سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا بل جموں و کشمیرری آرگنائزیشن بل 2019 بھارت اکثریت سے منظور کرلیا گیا، بل کے حق مں 367 اور مخالفت میں صرف 67 ووٹ پڑے۔ جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں عوام غاصبانہ قبضے کے خلاف کرفیو توڑ کر باہر نکل آئی ہے۔

سری نگر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6افرادشہید،100سےزائد زخمی ہوئے۔

پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کردیے اور فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ۔

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر سات رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ۔ یہ کمیٹی مقبوضہ وادی چنار کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال پہ نگاہ رکھے گی اور پاکستان کے ردعمل کو ترتیب دے گی۔

آٹھ اگست کو پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان کیا ۔

نو اگست کو قابض بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کے روز جوں ہی کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا، لاکھوں کشمیری سڑکوں پہ نکل آئے۔

گیارہ اگست کو مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے دوبارہ کرفیو لگا دیا۔

اکیس  اگست کو ضلع بارہ مولا میں احتجاج کے دوران بھارتی فوج سے کشمیری نوجوانوں کی جھڑپیں ہوئیں جہاں ایک نوجوان شہید ہوا جبکہ پولیس کا ایک اہلکار بھی مارا گیا، احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے 18 سالہ نوجوان اسرار احمد خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئے۔

ستمبر 2019

بھارت کی قابض سرکار نے گرفتار کیے گئے دس ہزار سے زائد افراد میں سے تقریباً ساڑھے چار ہزار پر اپنا سیاہ قانون ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ لاگو کردیا ۔

بھارت نواز کشمیری رہنما اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو بھارتی فورسز نے 16 ستمبر کو متنازع قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتار کیا، 81 سالہ فاروق عبداللہ کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے سری نگر میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا، حالانکہ ان کی رہائش گاہ کو پہلے ہی 5 اگست کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں اٹھایا اور عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے ظلم کی انتہا کردی ہے اور جب کرفیو اٹھاگیا تو کشمیری احتجاج کریں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے۔

اکتوبر 2019

بھارتی فورسز نے 23 اکتوبر کو پلوامہ کے علاقے ترال کا محاصرہ کرکے کارروائی کی اور راجپورہ میں 3 کشمیریوں کو شہید کردیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے سوپور میں 28 اکتوبر کو بس اسٹینڈ پر ایک دستی بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 15 افراد زخمی ہوئے۔

اِکتّیس اکتوبر کو بھارت نے آرٹیکل 370 کو باقاعدہ ختم کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کیا جبکہ ایک متنازع نقشہ بھی جاری کیا جس میں پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو شامل کیا گیا تھا جس پر بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کاسامنا کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر اور لداخ کو جغرافیائی طور پر الگ کیا جو براہ راست بھارت کی وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہوں گی، جموں و کشمیر کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 22 لاکھ جبکہ بدھ مت کے اکثریتی علاقے لداخ 3 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

نومبر 2019

پانچ نومبر کو سری نگر کی مرکزی مارکیٹ میں دستی بم حملہ کیا گیا جس میں ایک شہری جاں بحق اور 17 سے زائد زخمی ہوگئے، پولیس کے مطابق جاں بحق شخص کا تعلق بھارتی ریاست اترپردیش سے تھا۔

گیارہ نومبر کو ضلع بانڈی پورہ میں کارروائی کرکے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا گیا تھا۔ وادی بھر میں لاک ڈاؤں کے 100 دنوں کی تکیمل پر احتجاج کیا گیا اور بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی اور آزادی کے حق میں پلے کارڈز اٹھائے نوجوان بھارتی فوجیوں کے سامنے کھڑے تھے۔

انتیس نومبر کو بھارتی فورسز نے ضلع بڈگام کے علاقے میں سرچ آپریشن دوران 5 کشمیریوں کو شہید کیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے ماہ نومبر میں بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 28 کشمیریوں کو شہید کیا اور پیلٹ گن، گولیوں اور شیلنگ سے 98 کشمیری زخمی ہوگئے جب کہ قابض فورسز نے 106 شہریوں کو گرفتار کیا، مقبوضہ وادی میں سرچ آپریشنز کے نام پر خواتین سے بداخلاقی کی اور 63 گھروں کو بھی نقصان پہنچایا۔

دسمبر2019 

کشمیر میڈیا سروس کی  جانب  سے  جاری  رپورٹ کے مطابق  ماہِ دسمبر میں  بھارتی فوج نے مودی کی مسلم دشمن پالیسی  پرعمل کرتے ہوئے31 کشمیری نوجوان شہید کر دیئے۔ جبکہ مقبوضہ وادی میں جگہ جگہ کارروائی کرتے ہوئے بھارتی قابض فورسز نے 375 افراد کو زخمی کر دیا اور 162 نہتے افراد کو گرفتار بھی کیا۔ ظالمانہ کارروائیوں سے 2 خواتین بیوہ اور تین بچے یتیم ہو گئے جبکہ چار خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔

دس دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن پر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا۔

2020جنوری

چودہ  جنوری کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار پانچ نوجوانوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں ۔

اٹھارہ  جنوری بھارتی فوج کے وادی میں جرمن نازیوں کی طرح عقوبت خانے تیار کرنے کا انکشاف سامنے آگیا۔

اکیس  جنوری کو بھارتی فوج نے 3 نوجوانوں کو زندہ جلادیا، شوپیاں میں اچانک گھر پر حملہ کرکے بھارتی فوج نے تین نوجوانوں کو زندہ جلادیا، بھارتی فوج نے دعوی کیا ہے کہ تینوں نوجوان حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

چھبیس جنوری کو مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کی کال پر کشمیریوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا ۔

اکتیس جنوری کوکشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھاتی فوج نے فائرنگ کرکے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا، ان نوجوانوں کو ضلع نگروٹا کے علاقے میں ہائی وے پر نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ کشمیر میڈیا سروس کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر سال 2019 کی  رپورٹ  کے مطابق 2019 بھی وادی کی عوام  کیلئے  شدید سفاکانہ اور اذیت ناک رہا اور گزشتہ سال210 کشمیری شہیداور 2417 زخمی ہوئے جب کہ 12 ہزار 892 کو گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ گزشتہ سال شہید ہونے والوں میں 9 لڑکے اور 3 خواتین  بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 16کشمیریوں کوجعلی مقابلوں یادوران حراست تشدد میں شہید کیا گیا، زخمیوں میں سے827 افراد پیلٹ گن کا نشانہ بنے  اور بھارتی فورسزکے ہاتھوں چھروں کا نشانہ بننے والے162 کشمیری بینائی سے محروم ہوئے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay