5فروری : یومِ یکجہتیِ کشمیر

تحریر : مطیع الرحمان

آج 5فروری ہے پاکستانی عوام اس روز کشمیری عوام کیساتھ یکجہتی کے لیے کشمیر ڈے مناتی ہے۔یوں تو پاکستان نے 1947سے کشمیری عوام کا ساتھ ہر فارم اور ہر محاذ پر دیا ہے تاہم 1990 میں قاضی حسین احمد مرحوم کی کاوشوں سے 5 فروری بطور کشمیر ڈے منایا جانے لگا۔مسئلہ کشمیر کے حل پر پاکستان کی کاوشوں پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں مسئلہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے پس منظر کا اجمالی خاکہ پیش کرونگا۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل کے علم میں یہ بات آ سکے کہ کشمیری عوام جس آزادی کو ترس رہے ہیں وہ کتنی عظیم نعمت ہے اور اس آزادی کی نعمت کو پانے کیلئے کیا کیا قربانیاں دی جا رہی ہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے خطہ کشمیر75000لاکھ کے عوض راجہ گلاب سنگھ کو فروحت کیا۔مسلم اکثریتی والی اس وادی کی عوام نے ڈوگرہ مظالم کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی۔1930کی دہائی میں یہ جدوجہد اپنے عروج پر پہنچی تاہم ڈوگرہ حکمرانوں نے اس تحریک کو بندوق کی نوک پر دبا دیا ۔بہ حیثیت تاریخ کے طالب علم کہ میں صرف ایک واقعہ یہاں رقم کروں گا کہ 14 جولائی 1931کو ایک کشمیری نوجوان کے مقدمہ کی سماعت کے دوران اذان کی ادائیگی کا وقت آیا۔ایک نوجوان نے اذان شروع کی جسے مہاراجہ کے حکم پر شہید کر دیا گیا لیکن یہاں اذان ختم نہ ہوئی بلکہ تکمیل اذان کے لیے نوجوان آگے بڑھتے رہے اور شہید ہوتے رہے ۔بلا آخر 22نوجوانوں کی شہادت سے یہ اذان مکمل ہوئی یہ اک جھلک ہے کشمیری مسلمانوں کا اپنے شعائر دین سے محبت کا۔

کشمیر کا مسئلہ1947 سے ہی اہمیت اختیار کر گیا تھا کیونکہ کشمیری عوام اسلامی مملکت پاکستان سے الحاق چاہتی تھی لیکن کشمیر کا مہاراجہ بھارت کی جانب جھکاؤ رکھتا تھا۔میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہوں گا 73سال سے یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداروں کے باوجود حل نہیں ہو سکا ۔ان 73 سالوں میں 1 لاکھ سے زائد کشمیر شہید ہوئے اور معصوم بچے آنکھوں سے نابینا کر دئیے گئے ہیں۔لاکھوں مسلمان بہن بیٹیوں کی عصمت دری کی گی ہے۔لیکن اس سب کے باوجود اقوام عالم کی آنکھیں کھل نہ سکیں۔

ایک کشمیری ہونے کے ناطے میں مسئلہ کشمیر کے جلد پر امن حل کا خواہشمند ہوں ،میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ افغان وار کے بعد ہماری ترجیحات میں دوسرے درجہ پر چلا گیا ہے۔5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد ایک مرتبہ پھر ہم اس طرف متوجہ ہوئے ہیں ۔ اب کی بار عالمی میڈیا کی بھی بھارتی ظلم و جبر اور ریاستی ہتھکنڈوں پر نظر ہے اس وقت میں پاکستان کشمیر کے مسئلہ کو بہتر انداز میں اقوام عالم تک پہنچا سکتا ہے ۔

کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے ایک طالب علم ہونے کہ ناطے ایک تجویز دینا چاہونگا۔جو کشمیر کے مسئلہ پر پوری دنیا میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کی توجہ کا مرکز بن سکے ،پاکستان نے ہر محاذ پر کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے اب پوری دنیا میں بھارتی پروپیگنڈا کو رد کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی سطح پر آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو بھی پالیسی سازی میں ساتھ رکھا جائے اور کشمیری قیادت کو پورا مینڈیٹ دیا جائے تاکہ پوری دنیا میں کشمیر یوں کی اصل و مؤثر آواز پہنچ سکے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay