‘‘مافیا کون؟’’

تحریر: علمدار حیدر

وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں مختلف اقسام کے مافیاؤں کا عمل دخل بڑھ گیا ہے اور وہ ان مافیاؤں کو پہچانتے ہیں ملک میں برھتی ہوئی مہنگائی و بے روزگاری کا سبب مافیاؤں کی کاروائی ہے وہ مختلف صوبوں اور اضلاع میں بد انتظامی یا بیڈ گورننس کا ذمہ دار بھی مافیا کو ٹہراتے ہیں اپوزیشن جماعتوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر وہ مافیاوں کو جانتے ہیں تو انھیں عوام کے سامنے بے نقاب کریں ۔

عمران خان کی حکومت کو قائم ہوئے ڈیڑھ سال ہونے کو آئے وہ بر سر اقتدارآنے سے قبل اسٹیٹس کو توڑنے کی بات کرتے تھے وہ آئی ایم ایف سے بھی قرض لینے کے مخالف تھے انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کردیں گے انھوں نے عوام کو درپیش مسائل کے خاتمے کا بھی ذکر کیا تھا آئیے اس بات کا تجزیہ کریں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔

پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک ملک میں جاگیردارانہ اور وڈیرہ شاہی کا نظام قائم ہے گویا ہماری اقتصادی نظام کو زرعی معیشت کے ذریعے چلایا جارہا ہے ہماری جتنی بھی صنعتیں ہیں وہ زرعی معیشت سے جڑی ہوئی ہیں ٹیکسٹائل کا شعبہ کاٹن سے جڑا ہو ہے شوگر ملز گنے کی پیداوار سے جڑی ہوئی ہیں انجنئیرنگ کی صنعت کا انحصار امپورٹس پرہے۔
پاکستان اسٹیل ہم تباہ کر چکے ہیں جو ملکی ضرورت کا پچیس فی صدلوہا بناتی تھی اب ہم سو فیصد لوہا امپورٹ کرتے ہیں ان تمام امور کی وجہ سے ہماری اقتصادیات نہ ہی زرعی ہے اور نہ صنعتی ، جسکی وجہ سے ہمارے پاس ایکسپورٹ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔

زراعت اورصنعتوں کے نہ چلنے کا بنیادی سبب مہنگی بجلی ،مہنگی گیس اور مہنگے پیٹرول کو قرار دیا جاسکتا ہے جو آئی ایم ایف کی ہدایت پر بڑھائی گئی ہیں بجلی گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا سے لے کر ہر شے کے دام بڑھ گئے اس کا مطلب ہے کہ سب سے بڑا مافیا تو آئی ایم ایف ہے جسکی ہدایت پر ہر روز بنیادی ضرورتوں کی اشیا کے دام اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ غریب اور متوسط طبقے کا جینا محال ہوگیا ہے۔

کمال یہ ہے کہ سینیٹ کے چئیرمین، ڈپٹی چیرمین اور سینیٹر ز کی تنخواہوں میں اضافے کا بل تو پاس ہونے جارہا ہے لیکن سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے تنخواہ دار طبقے کی تنخواؤں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا ہے یہ بات بھی درست ہے کہ تاجروں نے اپنے منافع کی شرح دوسو فی صد کردی ہے اور ستم یہ ہے اشیا سے زیادہ منافع کما کر اس کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے تاجر اور کاروباری افراد خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے مہنگائی ان پر کم اثرانداز ہورہی ہے۔

موجودہ حکومت میں اقتصادی امور کے ماہرین کی بڑی تعداد موجود ہے ان ماہرین کو چاہئے کہ وہ ایسی پالیسی بنائیں جس کے ذریعے بند صنعتوں کو چلایا جاسکے گرتی ہوئی زرعی آمدنی کو بڑھایا جائے، کیا یہ ماہرین آئی ایم ایف کی غیر ضروری ہدایات کو نظر انداز نہیں کرسکتے دنیا میں دو طرح کے اقتصادی نظام چل رہے سرمایہ دارانہ نظام معیشت یا ملی جلی معیشت ،اس وقت دنیا بیشتر ملکوں میں کامیابی سے چل رہا ہے پاکستان بھی ملی جلی معاشی نظام کے نفاذ سے بہتر چلایا جاسکتا ہے۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے امریکہ اپنے زیر اثر ملکوں کو کنٹرول کرتا ہے اور پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بات ہمارے ماہرین اقتصادیات کے علم میں نہیں انھیں یہ علم ہے اور وہ جان بوجھ کر ملکی اقتصادیات کو امریکہ زیر اثر کر رہے تاکہ چین اور روس کے بڑھتے ہوئے قدم کو روکا جاسکے جناب وزیر اعظم صاحب مافیا تو آپکی اپنی سفوں میں موجود ہے کیا آپ ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتے اور اس وجہ سے 2020 میں ملکی معیشت کی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی جناب وزیر اعظم صاحب گاڈ فادر اور مافیا تو وہ عناصر ہیں جن کا مقصد سامراج کی خاصہ لیسی ہے۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay