سوشل میڈیا پر نوجوان جوڑے کی شادی کی ویڈیو وائرل

تحریر : مطیع الرحمن

شادی کا بندھن ایک باعزت اورپاکیزہ بندھن ہے اس میں بندھنے والے نہایت ہی خوش نصیب اور معاشرے میں قابلِ احترام ہو تے ہیں ۔

شادی کارشتہ صرف دو لوگوں کے درمیان نہیں جڑ تا بلکہ یہ ایسا ایک خوبصورت رشتہ ہے جس سے دو خاندان ایک دوسرے سے منسلک ہو کر آپسی دکھ درد میں شریک ہوتے ہیجس  سے  ان کے درمیان قربتیں بڑھتی ہیں اور اس طرح ایک کامیاب اورخوشحال خاندان وجود میں آتا ہے ۔

موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا اور ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کا دور ہے ہر شخص اگلے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ اور اس سبقت لے جانے کی جنگ میں انسان نہ ہی صحیح طریقے سے زندگی سے لطف اندوز ہو پاتاہے اور نہ ہی ان رشتوں کا مزہ لے پاتا ہے جن کے لیے ایک عمر “مخصوص” ہے ۔

مگر اس ہی برق رفتار اور مہنگائی کے دور میں ایک نوبیاہتا جوڑے نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی ۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں اسد اور نمرہ کی جنہیں سوشل میڈیا نے رات و رات اسٹار بنا دیا ہے ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سوشل میڈیا نے بہت سے گمنام افراد کو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا ہے لیکن جو شہرت ان کے حصے آئی وہ زرا مختلف ہے ۔ کیونکہ انہوں نے سنتِ نبیﷺ ادا کی جس پر کچھ لوگوں نے ان کا شدید مذاق اڑاتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ اس عمر میں تو وہ دھینہ پودینہ لاتے تھے تو دوسری جانب چند صارفین ان کے حق میں دلائل بھی دے رہے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو انکی کم عمری کی شادی پر فکر مند دکھائی دے رہے ہیں ۔

ویسے بحیثیت صحافت کا طالب علم اسد اور نمرہ کا یہ اقدام مجھے بہت پسند آیا کیونکہ انہوں نے کسی بھی خرافات ، عریانی ، فحاشی اور بے تکے مذاق یا گانے دانس کی ویڈیو کی وجہ سے نہیں بلکہ نکاح کی وجہ سے شہرت پائی ہے۔جو کہ ایک مثبت اقدام ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سوچ کو پروان چڑھنا چاہیے کیونکہ اگر آپ کو کسی سے  محبت ہے تو اللہ کا نام لے کر شادی کرو پھر دیکھو کہ اللہ کیسے مددگار ہوتا ہے۔

خیر میں اسد اور نمرہ کی بات کر رہا تھا جن کی عمر 18 سال ہے انکی دوستی کو 1 سال کا عرصہ ہوا ہے اور اب یہ شادی کے بندھن میں بند گئے ہیں ۔دیکھنا یہ ہو گا کہ صرف کم عمری کو بنیاد بنا کر ان پر تنقید درست ہے ؟َ اگر بغور دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر شادیاں تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں اور بر وقت شادی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی عمر کے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں ۔پھر رہی سہی کسر انڈین فلموں اور ڈراموں نے پوری کر دی ہے جس میں نوجوانوں کو عشق کے روگ میں اسطرح دیکھایا جا رہا کہ ہر کوئی لیلی و مجنوں دیکھائی دیتا ہے ۔

اس سب کیساتھ ساتھ آئے روز نوجوان لڑکیوں کے گھر سے بھاگ جانے کی خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں ،ایسی صورت حال میں ایک جوڑے کا رشتہ ازواج س منسلک ہونے کو تنقید کا نشانہ سمجھ سے بلاتر لگتا ہے ۔

بہ حیثیت اس معاشرے کی ایک اکائی ہونے کے میں اپنے معاشرے کی خوبیوں اور خامیوں سے با خوبی آگاہ ہوں ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسد اور نمرہ نے گرل اور بوائے فرینڈ کے کلچر کو ختم کرتے ہوئے اپنے والدین کی رضامندی سے نکاح کا احسن اقدام اٹھایا ہے ۔اور یہ ایک بہتر راستہ ہے جسکا انھوں نے انتخاب کیا ہے ۔

دین اسلام رزق میں اضافے اور فراوانی کے لئے نکاح کی تر غیب دیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ نے ہر انسان کے رزق کی ذمہ داری خود لی ہے اس سب کے باوجود ہمارے معاشرے میں صرف مال ودولت کی بنیا د پر شادی کروائی جاتی ہے ۔

میں کم عمری کی شادی کی مشکلا ت کو اچھی طرح سے سمجھتا ہوں لیکن پختہ عمر اور اعلیٰ معیار زندگی کے انتظار میں کی جانے والی خرافات کو بھی کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہیں میں آپکی اطلاع کے لئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس کم عمر نوبیاہتا جوڑے کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ شا دی کے بعد بھی یہ دونوں اپنی تعلیم کو جاری رکھیں گے اس لئے ان کو تنقی کا نشانہ بنا نے کے بجائے ان کے اقدام کو مثبت انداز میں پیش کیا جائے۔ اس لیے اب ان کا پیچھا چھوڑیں کیونکہ گزشتہ شب سوشل میڈیا میڈیا پر 19 سال کے دلہا دلہن کی انٹری ہو گئی ہے ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay