ترک صدر طیب اردوان کا پارلیمنٹ سے خطاب

ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیرسےمتعلق اپنے مؤقف پرقائم رہیں گے،مذاکرات کےذریعےمسئلہ کشمیرکاحل چاہتےہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مشترکہ اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے گرم جوشی و پرتپاک استقبال پر پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ترک عوام کی جانب سے تمام پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ اجلاس سےخطاب باعث فخرہے، پاکستان آکرلگتا ہے اپنےگھرمیں ہی ہوں، خود کواپنے گھرمیں محسوس کرتےہیں،پاکستان میں خود کواجنبی محسوس نہیں کرتا،ترک پاکستان تعلقات سب کیلئےقابل رشک ہیں،آج ترکی اورپاکستان کےتعلقات سب کےلیےقابل رشک ہیں،پاکستان اورترکی مشترکہ مذہب،ثقافت اوراقدارکےحامل ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں،پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے سازگار ماحول بن رہا ہے۔ میری کوشش ہوگی کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بھرپور فروغ دیا جائے، میں ترک تاجروں اور صنعتکاروں کے بڑے وفد کے ساتھ پاکستان آیا ہوں۔

رجب طیب اردوان کا کہنا تھاکہ پاکستان ترقی و خوشحالی کی جانب رواں دواں ہے، پاکستان قوم نے جس طرح اپنا پیٹ کاٹ کرہماری مدد کی تھی وہ کبھی نہیں بھول سکتے،دونوں ممالک کی دوستی مفاد پر نہیں عشق و محبت پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کےلیے ساز گار ماحول بن رہا ہے، اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی، مسلسل محنت و جدوجہد سے ممکن ہوتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں تمام تر دبائو کے باوجود پاکستان کا ساتھ دینے کا یقین دلاتے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور ترک عوام میں محبت ہمیشہ قائم رہے۔

انہوں  نے کہاکہ  ترک تحریک آزادی میں پاکستانی خواتین نے زیور اور بزرگوں نے جمع پونجی تک وقف کردی تھی، انہوں نے خلافت موومنٹ میں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی خدمات کو بھی سراہا۔ ترکی کی آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کے جذبہ اور کردار کوفراموش نہیں کرسکتے، ترک قوم کی جدو جہد کے وقت لاہور میں کیے گئے حمایتی جلسے آج بھی ہمیں یاد ہیں۔

انہوں  نے یہ بھی کہاکہ  پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ترکی کا بھرپور ساتھ دیا، شدید دبائو، غربت کے باوجود ترک قوم کو مدد فراہم کرنے پر ہم پاکستانی عوام کو نہیں بھول سکتے۔ ترک قوم35 سال سے علیحدگی پسند تنظیموں سے نبرد آزما ہے ، پاکستان نے پاک ترک اسکولوں کا نظام ہمارے حوالے کرکے حقیقی دوست کا ثبوت دیا۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ شام میں ہماری موجودگی کا مقصد مظلوم مسلمانوں کو جابرانہ حملوں سے بچانا ہے،شام کے عوام کو عالمی برادری نے تنہا چھوڑ رکھا ہے، ترکی 40 ارب ڈالر خرچ کررہا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ پاکستانی عوام کے لیے دکھ کو ہم نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا ہے، پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کے دوران ترک عوام نے بھرپور مدد کی۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف کے ذریعے ممکن ہے، بھارت کے یک طرفہ اقدام سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوا ہے، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں ترکی نے اپنا بھرپور موقف اپنایا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے اقدامات قابل تعریف ہیں، ہم فلسطین، قبرص اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے دعا گو ہیں، مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے۔ سرحد اور فاصلہ مسلمانوں کے درمیان فاصلہ پیدا نہیں کرسکتے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ سے متعلق امن نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے، ہم نے بیت المقدس کے معاملے پر اسرائیل کے خلاف پروقار اور مضبوط موقف اپنایا ہے۔

قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ترک صدر کو ایوان میں خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کا اعزاز ہے، رجب طیب اردوان پاکستان کے سچے دوست اور مسلم امہ کے اہم رہنما ہیں، رجب طیب اردوان اس قوم کے رہنما ہیں جس سے ہمارا صدیوں پرانا رشتہ ہے۔مسئلہ کشمیر پردوٹوک مئوقف پر پاکستانی عوام رجب طیب اردوان کو سلام پیش کرتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد ترک صدرطیب اردوان فیصل مسجد میں نماز جمعہ ادا کریں گے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباس اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ ترک صدر اور وزیراعظم پاکستان پاک ترک بزنس و سرمایہ کاری فورم سےبھی خطاب کریں گے، وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔

مشترکہ اجلاس میں چاروں صوبے کے وزرائے اعلیٰ اور گورنرز شرکت کریں گے، وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay