انصاف صحت کارڈ کے ذریعے کسی بھی اسپتال سےعلاج کرایا جاسکتا ہے، وزیراعظم

لاہور: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ انصاف صحت کارڈ کے ذریعے کسی بھی اسپتال سےعلاج کرایا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 50 لاکھ خاندانوں کو صحت سہولت کارڈ فراہم کیا گیا اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو مبارکباد دیتا ہوں۔ کبھی پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا نہیں کہا تھا اور میں نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا کہا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت پاکستانیوں کو عظیم قوم بنائیں گے اور مدینہ کی ریاست کا اصول کمزور طبقے کی ذمہ داری لینا تھا۔ خیبرپختونخوا میں پہلی بار انشورنس کا نظام لائے اور خیبرپختونخوا کے عوام نے ہماری پالیسیوں پر اعتماد کرکے اکثریت دی۔

انکا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہیلتھ کارڈ سسٹم کی وجہ سے دو تہائی اکثریت ملی اور خیبرپختونخوا کے عوام کسی کو دوسری باری نہیں دیتے۔ انصاف صحت کارڈ کے ذریعے کسی بھی اسپتال سے علاج کرایا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صحت، تعلیم اور روزگار فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں اور جب اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتے ہیں تو زندگی بدل جاتی ہے۔ میواسپتال میں کینسر کے مایوس مریضوں کو دیکھ کر شوکت خانم بنایا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم فلاحی ریاست کے ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے حکومت کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔ ریاست مدینہ بھی پہلے دن قائم نہیں ہوگئی تھی اور تین چار سال تک مدینہ کی ریاست کو بھی مشکلات تھیں۔

انکا کہنا تھا کہ صحت انصاف کارڈ فلاحی ریاست کی طرف سفر کا آغاز ہے اور کمزور طبقے کی زندگی میں بہتری ہماری ترجیح ہے۔ میڈیکل آلات کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کردی ہے اور ملک میں صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لارہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نجی اسپتالوں کے قیام کے لیے بھی سہولتیں فراہم کررہے ہیں اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کے تحت انتظامی تبدیلیاں لارہے ہیں۔ اسپتالوں کی نجکاری نہیں ہورہی، انتظامی اصلاحات کی جارہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتالوں کے انتظامی نظام میں سزا اور جزاء کا عمل متعارف کرارہے ہیں۔ مہنگائی کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کررہے ہیں اور ورثے میں ملنے والا 40 ارب ڈالر کا خسارہ روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنا۔

انکا کہنا تھا کہ حکومت ملی تو 60 ارب ڈالر کی چیزیں درآمد کررہے تھے اور حکومت ملی تو 20 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کررہے تھے۔ گھی اور دالیں امپورٹ کرتے ہیں، روپے کی قدر کم ہوئی تو مہنگے ہوگئے اور ہمیں پتہ چلتا جارہا ہے کہ مہنگائی کرکے کس کس نے فائدہ اٹھایا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے خساروں کی وجہ سے مشکل حالات دیکھے جبکہ چینی اور آٹا مہنگا ہونے میں حکومت کی کوتاہی ہے۔ چینی کی قیمتوں میں اضافے پر تحقیقات کررہے ہیں اور مہنگائی سے کس نے فائدہ اٹھایا؟ سب کا پتہ چلائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کرنے والوں کو کسی صورت چھوڑا نہیں جائے گا اور ایسا نظام لارہے ہیں کہ آئندہ ایسی مصنوعی مہنگائی نہ ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا اور پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ مافیا ہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay