اسلام آباد ہائیکورٹ: احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی ضمانتیں منظور کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں نارووال سپورٹس کمپلیکس کیس میں احسن اقبال اور ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا سپریم کورٹ کہتی ہے کہ آپ تفتیش ضرور کریں لیکن سزا نہیں دے سکتے، بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی جیسے ملزم کی آزادی کو بھی سلب نہیں کیا جاتا، برطانیہ نے مشتبہ شخص پر 12 شرائط عائد کیں لیکن آزادی سے محروم نہیں کیا، نیب تفتیشی افسر بھی کسی ملزم پر 30 شرائط لگاسکتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیوں کیا گیا ؟ تفتیش مکمل ہے تو احسن اقبال اور شاہد خاقان کو مزید جیل میں کیوں رکھا جائے ؟ احسن اقبال، شاہد خاقان کو ووٹ ملے، انہیں نمائندگی سے کیسے محروم کیا جاسکتا ہے ؟ جن ووٹرز نے احسن اقبال، شاہد خاقان کو ووٹ دیا ان کو کس بات کی سزا ہے ؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کسی کو غیر ضروری گرفتار نہیں کر سکتے، غیر ضروری گرفتاری دراصل اختیارات کا غلط استعمال ہے۔

عدالت  نے نارووال اسپورٹس کمپلیکس کیس میں احسن اقبال اور ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے دونوں لیگی رہنماؤں کو ایک، ایک کروڑ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay