وزیراعظم کاکورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بنانے اور خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بنانے اور خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

گزشتہ  روز اسلام آباد میں  میڈیا پرسنز سے گفتگو کرتے ہوئےوزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے تناظر میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے وزیراعظم کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بنانے اور خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ قوم متحد ہو کر جیتے گی، صوبوں کا یکساں مؤقف ہے کہ سامان کی نقل و حمل کیلئے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کی مکمل اجازت ہو گی جبکہ مسافر بردار گاڑیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔

وزیر  اعظم  عمران خان نے  کہا کہ کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر کوئی حکومت اکیلے قابو نہیں پا سکتی، یہ جنگ قوم متحد ہو کر جیتے گی۔ انہوں نے کہا کہ صرف چین میں مکمل لاک ڈائون کامیاب رہا، اس کی وجہ منظم انفراسٹرکچر کا ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں منظم انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی کے باعث مکمل لاک ڈائون فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ کے ملک کے غریب اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے لئے مزید مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کی صورتحال سے کھانے پینے کی اشیاء کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ کے خدشہ کے پیش نظر سامان کی نقل و حمل کے لئے مال بردار گاڑیوں کو مکمل اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم مسافر بردار گاڑیوں کے چلنے پر پابندی عائد رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور اب آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ چلنے کی اجازت ہو گی۔ اسی طرح کھانے پینے کی اشیاء کی صنعت بھی کام کرتی رہے گی، اس سلسلے میں صوبوں کے ساتھ مل کر میکنزم بنایا جا رہا ہے تاکہ لوگ بھی جمع نہ ہوں اور خوراک کی ترسیل میں بھی کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے ملک کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کر رہے ہیں، ہمیں کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور اور غریب طبقات کے معاشی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان پر اللہ کا بڑا کرم ہے، کورونا وائرس سے متاثرہ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں حالات بہتر ہیں تاہم اگلے دو ہفتوں میں صورتحال کیا ہوتی ہے اس کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا، اس لئے ہم نے اپنی پوری تیاری رکھنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی آلات و سامان کی دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے، کافی حد تک سامان پہنچ رہا ہے جبکہ مزید انتظامات بھی کئے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہاکہ چین نے کورونا وائرس سے کامیابی سے مقابلہ کیا، اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہاں لاک ڈائون کے ساتھ لوگوں کو گھروں پر راشن پہنچانے کا انتظام موجودہے، ہمارے ہاں صورتحال مختلف ہے۔

 انہوں نے کہاکہ مسئلہ کے حل کے لئے نوجوان رضا کاروں پر مشتمل کورونا ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیاہے، اس فورس کیلئے وزیراعظم آفس کے سٹیزن پورٹل کے ذریعے نوجوانوں کی رجسٹریشن کی جائے گی اور اس عمل کا باقاعدہ آغاز 31 مارچ سے ہو گا۔

 وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان ہمارے ملک کی طاقت ہیں اور اس جنگ میں ان کی ضرورت ہے۔ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں شامل نوجوان ایمرجنسی میں ضرورت مند لوگوںکو ان کے گھروں میں راشن پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ ہفتے وزیراعظم ریلیف فنڈ بھی قائم کیا جائے گا جس میں مخیر حضرات اپنے فنڈز اور عطیات جمع کرا سکیں گے۔ اس فنڈ سے مستحقین کی مدد کی جائے گی جبکہ احساس پروگرام کے تحت براہ راست رقوم کی فراہمی بھی جاری رکھی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں خیرات کرنے کے حوالے سے بے مثال جذبہ موجود ہے، ہم پہلی مرتبہ اس کام کو منظم طریقے سے سر انجام دیں گے، اس مقصد کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے منظم ڈیٹا مرتب کیا جائے گاجس سے رقوم کی مناسب تقسیم اور ضرورت کے مطابق استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ بحران سے پوری دنیا میں تجارت متاثر ہوئی ہے، ہماری برآمدات جو بہت دیگر کے بعد بڑھ رہی تھیں ان میں بھی کمی آئی ہے جبکہ ترسیلات زر متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنسی کی قدرپر بھی دبائو بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں آسانی کے لئے آئندہ ہفتے سٹیٹ بینک میں ایک خصوصی اکاؤنٹ کھولا جائے گا، سمندر پار پاکستانیز اس اکاؤنٹ میں ڈالر بھجوا سکیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر درست فیصلے کرنے کی اشد ضرورت ہے اور آج گڈ ٹرانسپورٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، اب اشیاء ضروریہ کی قلت یا قیمتیں بڑھنے کا امکان نہیں، اس لئے عوام گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، تعمیری تنقید حکومتوں کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے تاہم بدنیتی پر مبنی تنقید کو لوگ پہچان لیتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کی آزادی کے ساتھ کھڑے رہیںگے، قوم میں تفریق نہیں ہونا چاہیے، جو بھی اسے تقسیم کرنے کی کوشش کرے گا وہ خود نقصان اٹھائے گا۔

 انہوں نے کہا کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس اور آئی ٹی کی مدد سے پورے ملک کی آباد کی میپنگ ہو سکے گی۔ اس بحران سے نمٹنے کے بعد ہماری قوم مزید مضبوط بن کر ابھرے گی اور یہ ڈیٹا بیس مستقبل کی منصوبہ بندی میں بہت کار آمد ثابت ہو گا۔

 ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کے لئے مشکل حالات ہیں، یہ نئی صورتحال ہے اور لوگ گھبراہٹ کا شکار ہیں اس لئے ان کے ساتھ زیادہ سختی نہیں ہونی چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت مستحقین کو چار ماہ کی اکٹھی رقم دی جائے گی جبکہ نئے فنڈ اور مزید اقدامات سے یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خیراتی پروگرام بن جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک سے وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کو مکمل سکریننگ کے بعد آنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس حوالے سے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف اس جہاد میں سب سے آگے ہیں، ہمیں ان کی ذاتی حفاظت کا مکمل احساس ہے، ان کو تمام ضروری حفاظتی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ ان کو ہیلتھ رسک بونس بھی دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر اور صوبوں کیساتھ مل کر جائزہ لے کر اقدامات کر رہے ہیں، ہماری پوری کوشش ہو گی ایسا نظام لائیں جو ایک مثال ہو۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان طبقاتی نظام نے پہنچایا ہے جہاں امیر اور طاقتور طبقہ قوم کا پیسہ لوٹ کر بھی آزاد ہے، تیس تیس سال حکومت میں رہنے والے اپنا علاج قوم کے پیسے پر بیرون ملک کرواتے رہے لیکن نظام ٹھیک نہیں کیا، میرا ان کے ساتھ سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، ملک کے غریب عوام کو مدد کی ضرورت ہے، اس کیلئے ہم نے ہیلتھ انشورنس کے علاوہ انصاف کے حصول میں انہیں قانونی معاونت فراہم کرنے کا پروگرام بھی بنایا ہے۔

 وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق مخدوم خسرو نے کہا کہ آٹے کی زیادہ خریداری کی وجہ سے بعض علاقوں میں کمی ہوئی، گندم کی سرکاری خریداری بھی شروع ہو چکی ہے، فلور ملز کے ساتھ طے پایا ہے کہ وہ گندم سے 60 کی بجائے 80 فیصد آٹا بنائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سرکاری گوداموں میں 16 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں، دو سے تین دن میں آٹے کی رسد اور قیمتیں بہتر ہو جائیں گی۔

 وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 5 اپریل تک کورونا سے متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے طبی عملہ کو حفاظتی سامان مل جائے گا، آئی سی یو میں کام کرنے والے طبی عملہ کو تربیت بھی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے 61 فیصد مریضوں کی عمریں 21 سے 50 سال ہے، اس صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، پاکستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دوسرے ممالک کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا فائدہ اس وقت ہو گا جب انہیں اشیاء ضروریہ آسانی سے میسر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اشیاء ضروریہ کی فہرست مرتب کرکے ان کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے گا، صوبوں کی مشاورت سے ایسا طریقہ کار وضع کریں گے جس کے تحت نہ صرف اشیاء ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔

واضح  رہے کہ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق خسرو بختیار، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی موجود تھے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay