وزيراعظم کا کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان

وزيراعظم عمران خان نے کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پانچ، سات دن میں کورونا کی صورتحال واضح ہوجائےگی، وزیر اعظم کا فوج اور انتظامیہ کی مدد کے لیے کورونا ٹائيگر فورس قائم کرنے کا اعلان بھی دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا ہی کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہے۔اس وبا سے لڑنے میں صرف ایک ہی ملک کامیاب رہا ہے اور وہ چین ہے، جس نے وبا کے مرکز ووہان کو بند کردیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں اس طرح کے حالات نہیں ہیں۔ ہم لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ یہاں کوئی لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوتا۔ یہ لاک ڈاؤن اس لیے کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ یہ غریب اور امیر میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متوسط علاقوں میں ایک ہی گھر میں پانچ سے چھ افراد ایک کمرے میں رہتے ہیں، تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ غریب علاقوں سے نکل کر یہ وائرس امیر علاقوں میں نہیں پہنچ سکتا۔

وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن کے نقصانات بتاتے ہوئے پڑوسی ملک بھارت کی مثال دی اور کہا کہ اس ملک کے وزیراعظم نے قوم سے معافی مانگی ہے۔ اب اگر وہ لاک ڈاؤن ختم کریں گے تو وہاں کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں کورونا کے خلاف جنگ حکمت سے لڑنی ہے اور اسے جیتنا ہے۔ ان کی حکومت نے اب تک کی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں کورونا سے لڑنے کے لیے ایمان اور نوجوان آبادی کی طاقت کا سہارا لینا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ نوجوانوں پر مشتمل ٹائیگر فورس کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر لوگوں کو گھروں تک راشن پہنچائے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فورس میں ہر طبقے کے نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا جو لوگوں کو گھروں تک کورونا سے متعلق آگاہی پہنچائے گی۔

 وزیراعظم عمران خان نے ’’کورونا ریلیف فنڈ‘‘ کے قیام کا اعلان بھی کرتے ہوئے کہا کہاس فنڈ میں پیسہ پہنچانے والوں سے اس سے متعلق کچھ نہیں پوچھا جائے گا جبکہ اس پیسے کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا جائے گا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان آسان قرضے بھی فراہم کرے گا۔

 

اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کیا کہ آپ کی وجہ سے ملک لوگ مریں گے۔ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اشیاء خورونوش کی کمی ہوجاتی ہے اور طلب میں اضافے کے وجہ سے ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ اگر ملک میں قوم بھوکی مری تو ذخیرہ اندوز اس کے ذمہ دار ہوں گے، اور انہیں عبرت ناک سزا دلوائی جائے گی۔

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ کورونا وائرس کے خلاف ہم یہ جنگ حکمت سے ہی جیت سکتے ہیں۔ اگر ہم  سماجی فاصلے نہیں رکھیں گے تو دوسروں کو بھی بیمار کر سکتے ہیں۔ اگر ہم وہ حوصلہ دکھائیں گے تو کورونا کے خلاف جنگ جیت جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں لوگ مدینہ کی ریاست کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہجرت کے وقت جو لوگ مکہ سے مدینہ کی جانب آئے اور انصار نے مہاجرین کا خیال رکھا تھا آج ہمیں اسی حوصلے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وبا ملک میں پھیلنے کے بعد یہ وزیراعظم عمران خان کا قوم سے تیسرا خطاب ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay