لاک ڈاؤن میں دنیا بھر میں خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے معاشرتی و اقتصادی دباؤاور عالمی سطح پر خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے گزشتہ روز دنیا بھر میں جنگ بندی سمیت ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ تشدد جنگ کے میدان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بہت سی خواتین اور لڑکیاں جنہیں اپنے گھروں میں سب سے زیادہ محفوظ ہونا چاہیے ان کے لیے تشدد کے خطرات سب سے زیادہ ہیں اسی لئے آج وہ دنیا بھر کے گھروں کے لیے امن و سلامتی کی اپیل کرتے ہیں۔

انتونیو گوٹریس نے کہا کہ کورونا وباء کے باعث لاک ڈاؤن سے دنیا بھر میں معاشرتی و اقتصادی دباؤ، نقل و حرکت پر پابندیوں سمیت خواتین اور لڑکیوں پر گھریلو اور جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کی حکومتیں خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اقدامات کریں اور پناہ گاہوں، میڈیکل سٹورز اور اشیاء خوردونوش کے سٹورز میں ہنگامی انتباہی نظام کے قیام سمیت خواتین کا استحصال کرنے والوں کو آگاہ کیے بغیر خواتین کی مدد کے محفوظ طریقے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تشدد میں اضافہ اس حقیقت سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے کہ ادارے پہلے ہی وبائی امراض سے نمٹنے کے باعث سے بہت زیادہ دباؤ میں ہیں اور مقامی امدادی گروپس یا خواتین کی پناہ گاہیں مفلوج یا ان کے پاس فنڈز کی کمی ہے جن میں سے بعض بند ہیں اور دیگر میں جگہ نہیں ہے کیونکہ خواتین کے حقوق اور آزادی مضبوط اور لچکدار معاشروں کی پہچان ہے لہذا ہمیں کورونا وائرس کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ جنگ زدہ علاقوں سے لے کر گھروں تک تشدد کی روک تھام کے لیے بھی مل کر کام کرنا چاہیے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay