وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چودھری عہدے سے مستعفی

لاہور: صوبہ پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے اپنا استعفیٰ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھجوایا انہوں نے گندم بحران کے باعث نے استعفیٰ دیا۔

 

بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی وزیر خوراک کا استعفیٰ منظور کرلیا جبکہ کمشنر ڈیرہ غازی خان و سابقہ سیکرٹری خوراک نسیم صادق کی عہدے سے علیحدگی کی درخواست بھی قبول کرتے ہوئے انہیں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنادیا گیا۔واضح رہے کہ نسیم صادق گندم بحران کے دنوں میں سیکرٹری خوراک تھے اور اس وقت کمشنر ڈیرہ غازی خان کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔سابق ڈائریکٹر خوراک ظفر اقبال کو بھی او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 4 اپریل کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے آٹا و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی آٹا بحران کی اہم وجہ رہی۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ 13 دسمبر 2019ء کو مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے فلورملز پر ساڑھے 7 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا، فلور ملز ایسوسی ایشن نے مسابقتی کمیشن کے جرمانےکو عدالت میں چیلنج کردیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کا تحقیقات کا طریقہ کار بہت سست ہے، 13 سال میں مسابقتی کمیشن نے 27 ارب روپے جرمانے میں سے 3 کروڑ 33 لاکھ وصول کیا۔

رپورٹ کے مطابق سندھ نے گندم نہیں خریدی جبکہ پنجاب کی جانب سے خریداری میں تاخیر کی گئی، ای سی سی کو بے خبر رکھنے پر صاحبزادہ محبوب سلطان معقول جواب نہ دے سکے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا گندم کی ضروریات کے حوالے سے پنجاب انحصار کرتاہے، ڈائریکٹر فوڈ پنجاب گندم خریداری میں پنجاب کی جانب سے تاخیر پر کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے، خیبر پختونخوا کے اس وقت سیکرٹری اور ڈائریکٹر فوڈ ڈیپارٹمنٹ گندم کی خریداری میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay