وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں کردی گئیں

Federal cabinet

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے آٹا، چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

مشیر صنعت و پیداوار عبدالرزاق داؤد کو عہدے سے ہٹادیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رزاق داؤد کو وفاقی حکومت کے شوگر ایڈوئزری بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے بھی ہٹادیا گیا۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق مخدوم خسرو بختیار کو وزیر فوڈ سیکیورٹی کے عہدے سے ہٹا کر فخر امام کو فوڈ سیکیورٹی کا قلمدان دے دیا گیا۔ حماد اظہر کو وزارت صنعت کا وزیر بنادیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی کا وزارت سے استعفیٰ منظور کر لیا گیا، اُن کی جگہ ایم کیو ایم کے امین الحق کو آئی ٹی کا وزیر بنادیا گیا ہے۔

وفاقی سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی ہاشم پوپلزئی کو بھی عہدے سےہٹا دیا گیا، اُن کی جگہ عمر حمید کو سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی مقرر کردیا گیا ہے۔ اعظم سواتی کو وفاقی وزیر نارکوٹکس کنٹرول کا قلم دان دیا گیا ہے۔ بابر اعوان پارلیمانی امور کے مشیر ہوں گے جبکہ محمد شہزاد ارباب کو مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

قبل ازیں چینی بحرن کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیے جانے کے بعد جہانگیر ترین کو چیئرمین زرعی ٹاسک فورس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے فوڈ سکیورٹی کی وزارت سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا استفعیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا۔

خسرو بختیار کے استعفے کے متن میں کہا گیا ہے کہ شوگر بحران میں مجھے بلاجواز بدنام کیا جارہا ہے، مجھے چار ماہ پہلے فوڈ اینڈ سیکیورٹی کا چارج دیا گیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ میں اپنی وزارت سے متعلق ملک میں گنے کی پیداوار کے بارے میں معلومات رکھتا تھا، کسی بھی ذاتی مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے بطور وزیر فوڈ سیکیورٹی کا عہدہ چھوڑتا ہوں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay