وفاقی حکومت نے عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیدیا

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ مساجد، بازاروں، دکانوں، پبلک ٹرانسپورٹ، ٹرین، بس، وین میں ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سرجیکل اور کپڑے کے ماسک استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز اور گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر کورونا وائرس پھیلنے کی شرح 92 فیصد ہے۔

معاونین خصوصی کا کہنا تھا کہ ہم 5 لاکھ 32 ہزار کورونا ٹیسٹ کرچکے ہیں، 24 گھنٹوں میں 12ہزار 20 ٹیسٹ کئے، جن میں سے 2429 ٹیسٹ مثبت آئے، جبکہ اس دوران 78 اموات ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس مقامی سطح پر پھیل رہا ہے جو 92 فیصد ہے، ملک میں کورونا سے صحت یاب افراد کی شرح 36 فیصد ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں 4 ہیلتھ ورکرز بھی جاں بحق ہوئے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ایس او پیز اور گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے، ہم ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہےہیں، سرجیکل اور کپڑے کے ماسک استعمال کیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مساجد، بازاروں، دکانوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین میں ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی جو واپس آنا چاہتے ہیں ان میں سے دنیا کے 55 ممالک سے 33 ہزار پاکستانیوں کو واپس لاچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت لگ بھگ ایک ہزار پاکستانی روزانہ واپس آرہےہیں اور یکم جون سے 10 جون تک لگ بھگ 20 ہزار لوگ واپس آئیں گے یعنی روزانہ دو ہزار لوگ آئیں گے جو ہماری گزشتہ پالیسی کا دوگنا ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی ہے، یکم جون سے 10 جون کے دوران متحدہ عرب امارات سے 8 ہزار، 4 ہزار سعودی عرب سے واپس لائیں گے کیونکہ اس دو ممالک میں بہت زیادہ دباؤ آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت جلد ہم ایک نئی پالیسی لا رہے ہیں جس کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خوش خبری ہے کہ واپس لانے کی تعداد بڑھا رہے ہیں اورجو مسائل ہیں وہ بھی جلدختم ہوجائیں گے، اس حوالے سے تفصیلات چند روز میں جاری کریں گے۔

پاکستان کی فضائی حدود پروازوں کے لیے کھولنے سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن نے صرف بیرونی ملک جانے والی پروازوں پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ مکمل پابندی ہٹادی گئی ہے جو ہمارے لیےممکن نہیں ہے لیکن یہاں سے بھی جانے کے لیے پابندی تھی لیکن اب جو پرواز آنا چاہے گی وہ خالی آئے گی اور یہاں سے جو باہر جانا چاہتےہیں ان کو اجازت ہوگی۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay