فاقہ کشی پر مجبور لوگوں کو عیدالضحیٰ کی خوشیوں میں شامل کر لیا جائے، کاشف شمیم صدیقی

معروف شاعر اور کالم نگار کاشف شمیم صدیقی کا عید الضحٰی کی عنقریب آمد پرغریب، بے سہارا اور بھوک کی شدت سے بد حال لوگوں کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک کے پسماندہ علاقوں میں موجود بے انتہا غربت نے جہاں بے شمار انسانی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے وہیں بے بس و مجبور افراد کے “فاقے ” زندگی کے چراغ کی روشنی کو مدھم کرتے چلے جا رہے ہیں۔

مستحقین میں قربانی کے گوشت کی تقسیم زخموں پر مرہم کی مثل ہو گی، شاعر، کالم نگار

بدترین معاشی حالات سے مقابلہ کرتے یہ افراد یا تو بے بسی کی موت مر جاتے ہیں یا پھر موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور رہتے ہیں۔

عید الضحٰی کی آمد آمد ہے، خوشیوں سے بھرے تہوار پر ایسے نادار لوگوں کے جذبا ت و احساسات کیا ہوں گے، ہر حساس دل محسوس کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام نادار افراد کا بھر پور ساتھ دیتے ہوئے اُنہیں عید کی خوشیوں میں شامل کر لیا جائے۔ غرباء میں قربانی کے گوشت کی عمدہ تقسیم اچھے اثرات مرتب کرے گی۔

بھوک کی شّدت سے مُرجھائے چہرے، کمزور و ناتواں وجود زندگی کے رنگوں سے ناآشنا ہیں،

شاعرِامن کاشف شمیم صدیقی نے صاحب ثروت افراد و خاندانوں سے درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعدازعید ایسے لاتعداد غریب خاندانوں کی بھرپور کفالت کے مسئلے پر سوچ و بچار کرکے اگر احسن اقدامات عمل میں لے آئے جائیں تو اُن کی زندگیوں میں بھی اُجالے لوٹ آئیں گے۔ بہتر زندگی کے سفر پر گامزن یہ خاندان ملک وقوم کی ترقی میں اپنا، اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay