سعودی عرب نے پاکستان سے ایک ارب ڈالر واپس لے لیے

سعو دی عرب اور پاکستان کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی باہمی ختم فہمی کا ازالہ کریگی۔ اسکے نتیجے میں بلوچستان کے علاقے حب میں جدید ترین سعودی ریفائنری دو سال میں قائم ہو جائیگی۔ اسکی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، ای سی سی کے علاوہ وزارت دفاع، وزارت ماحولیات، لوکل گورنمنٹ، اوگرا نے سعودی ریفائنری کے قیام کی کلیرنس دیدی ہے۔

سعودی عرب 12ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 4لاکھ بیرل یومیہ خام تیل سے دنیا کا جدید ترین سلفر فری، لیڈ فری،یورو-5 پٹرول پیدا کیا کرے گا اس ریفائنری کیلئے سعودی عرب کی 12ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان سعودی ولی عہد کرائون پرنس محمد بن سلیمان نے کیا تھا اس سے پاکستان کی پٹرولیم کی درآمدات میں نمایاں کمی آ جائیگی۔

پاکستان نے موجود پانچوں ریفائنریاں(پاکستان ریفائنری، نیشنل ریفائنری، پاک عرب ریفائنری،اٹک آئل ریفائنری،پائیکو ریفائنری) یورو -5اسٹینڈرڈ کا پٹرول ڈیزل وغیرہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، اس طرح حب میں سعودی عرب کی 12ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے دو سال کے اندر بننے والی سعودی ریفائنری پاکستان کی پہلی یورو -5ریفائنری ہوگی۔

پاکستان کی موجود حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کے ٹوئٹ سے سعودی عرب کو جودکھ پہنچا ہے اسکے ازالے کیلئے بیک ڈور ڈپلومیسی کے نتیجے میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کا ایک وفدکسی بھی وقت سعودی حکمرانوں سے مفاہمت کیلئے سعودی عرب جا سکتا ہے۔

اس ریفائنری کیلئے امریکہ یورپ سے جدید ترین مشینری آلات درآمد ہونگے اور یہ دو سال کے مختصر ترین عرصے میں یورو -5اسٹینڈرڈ کی پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار شروع کر دے گی اس سے پاکستان کی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی آئے گی اور پاکستان کا آئل امپورٹ بل سالانہ اربوں ڈالر کم ہو جائیگا۔

بصورت دیگر سعودی سرمایہ کاری سے بننے والی ریفائنری کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے کیونکہ سعودی عرب نے موجودہ حکومت کو آئی ایم ایف کی شرطیں لگانے کے دوران تین ارب ڈالر دیئے تھے جن میں سے ایک ارب ڈالر فی الحال سعودی عرب نے واپس مانگے ہیں سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی ہر مشکل گھڑی میں کام آنے والے ہمسایہ دوست ملک چین سے پاکستان نے ایک ارب ڈالر لیکر سعودی عرب کو دے دیئے ہیں۔

پاکستان کے عہدیدار نے مبینہ طور پر یہ ریمارکس دیئے کہ تنازعہ جموں کشمیر پر اگر سعودی عرب او آئی سی کا اجلاس نہیں بلائے گا تو پاکستان اپنا اسلامی بلاک بنا لے گا۔ سعودی عرب نے پچھلے سال اپنے دورے کے دوران انڈیا میں دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری کیلئے 18ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا جسکی کل لاگت 60ارب ڈالر ہے اور یہ حب سعودی ریفائنری سے تین گنا زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق بیک ڈور ڈپلومیسی اس امر کا ادراک کرتے ہوئے شروع ہو سکتی ہے کہ 27لاکھ پاکستانی سعودی عرب سے سالانہ 5ارب ڈالر وطن بھیجتے ہیں ان حلقوں کا کہنا ہے کہ غریب آدمی امیر آدمی سے کیوں مخالفت لے سکتا ہے۔ بھارت کے پاس چار سے ارب ڈالر کا زرمبادلہ ہے پاکستان کے پاس اٹھارہ ، بیس ارب ڈالر کا زرمبادلہ ہے۔

سعودی عرب مذہبی اتحاد اور اخوت کو بھارت کے ساتھ کاروباری، تجارتی تعلقات کو قربان کر سکتا ہے کیونکہ امریکہ اور چین کے بعد ہندوستان سب سے زیادہ تیل استعمال کرنے والا ملک ہے۔ سعودی عرب میں انڈیا کے 27لاکھ کے مقابلے میں چار ملین سے بھی زیادہ ورکرکام کر رہے ہیں۔

انڈیا گورنمنٹ پاکستان کے مقابلے میں سعودی عرب سے زیادہ غریب ہے ۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کو زمینی حقائق ملحوظ رکھتے ہوئے دوست ملکوں کے بارے میں گفتگو کرنی چاہئے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay