اردو کے ممتاز شاعر ڈاکٹر راحت اندوری انتقال کر گئے

اب کہا ڈھونڈنے جاؤ گے ہمارے قاتل
اب تو قتل کا الزام ہمیں پر رکھ دو

خیالات و جذبات، اقدار و روایات ، مدح و ذم، حالات و واقعات وغیرہ کو غیر معمولی انداز میں موزوں کر کے پیش کرنا شاعری کہلاتا ہے۔ جذبات اور خیالات کو لفظوں کا پیراہن پہنانے والے اردو کے معروف شاعر راحت اندوری نے اس دیار فانی کو الوادع کہہ دیا ۔

زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر

راستے کے پتھروں سے خیریت معلوم کر

بھارتی میڈیا کے مطابق راحت اندوری کا انتقال ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا جبکہ اس سے قبل ان کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا تھا۔ 70 سالہ شاعر سری آروبندھو انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیرعلاج تھے، ڈاکٹرز کے مطابق انھیں آج دل کا دورہ پڑا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا، ڈاکٹروں نے مزید بتایا کہ انھیں ساٹھ فیصد نمونیہ بھی ہوگیا تھا۔

فیصلہ جو کچھ بھی ہو منظور ہونا چاہیے
جنگ ہو یا عشق ہو __ بھرپُور ہونا چاہیے

راحت اندوری یکم جنوری 1950 کو بھارت میں پیدا ہوئے وہ پیشے کے اعتبار سے اردو ادب کے پروفیسر رہ چکے ہیں  بعد ازاں آپ نے کئی بھارتی ٹی وی شوز میں بھی حصہ لیا۔ڈاکٹر راحت اندوری نے نہ صرف بھارتی  فلموں کے لیے نغمہ نگاری کی بلکہ گلوکاری کے کئی شوز میں بہ طور جج حصہ بھی لیا۔ انہوں نے نئی نسل کو کئی رہنمایانہ باتیں بتائیں جو اُن کے فنی سفر ، تلفظ اور گلوکاری میں معاون ثابت ہوئی۔

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر

جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

 فلمی نغمات میں  میں منا بھائی ایم بی بی ایس کا میں بولے تو، اور فلم قریب کے لیے ’چوری چوری جب نظریں ملیں‘، فلم گھاتک کا نغمہ ’کوئی جائے تو لے آئے‘ اور فلم عشق کا نغمہ ’نیند چرائی میری‘ شامل ہیں۔ اس سال کے شروع میں ان کی نظم ’بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں‘ سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی۔

بلاتی ہے مگر،، جانے کا نئیں
یہ دنیا ہے اِدھر جانے کا نئیں

میرے بیٹے کسی سے عشق کر
مگر حد سے گزر جانے کا نئیں

آپ کے والد رفعت اللہ قریشی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ملازم تھے، راحت اندوری بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر ہیں، آپ نے ابتدائی تعلیم نوتن (مقامی) اسکول سے حاصل کی بعد ازاں اسلامیہ کریمیہ کالج اندور سے 1973 میں گریجویشن مکمل کیا۔

دوستی جب کسی سے کی جائے

دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

سن 1975 میں آپ نے بھوپال میں واقع برکت اللہ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا، تعلیمی سفر جاری رکھنے کے لیے آپ نے 1985 میں بھوج اوپن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

میرے ہجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو
آسمان لائے ہو ، لے آؤ، زمین پر رکھ دو

آپ کی تصانیف میں دھوپ دھوپ، میرے بعد، پانچواں درویش، رت بدل گئی، ناراض، موجود و غیرہ شامل ہیں۔ آپ نے اپنے منفرد انداز بیان، مختصر اور آسان الفاظ میں شعر کہہ کر اردو ادب اور سامعین کے دل جیتے۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay