پہلا صدارتی مباحثہ: جو بائیڈن نے ٹرمپ کو شٹ اپ کال دیدی

اوہائیو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ پارٹی کے حریف صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے درمیان پہلے گرما گرم صدارتی مباحثے میں جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کو شٹ اپ کال دیدی۔

تفصیلات کے مطابق 3 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے سلسلے میں امریکی صدارتی امیدواروں میں ہونے والا پہلا براہ راست مباحثہ بدنظمی اور تکرار کا شکار ہو گیا۔

مباحثے کے دوران ٹرمپ اور بائیڈن ایک دوسرے سے الجھتے اور  الزام  تراشی  کرتے  رہے

اگلے امریکی صدارتی انتخاب میں مقابلہ  ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق نائب صدر جوبائیڈن کے درمیان ہوگا، اس سلسلے میں آج   دونوں کا اوہائیو  کے شہر میں پہلا صدارتی مباحثہ ہوا۔ مباحثے کے دوران دونوں ایک دوسرے سے الجھتے اور  الزام  تراشی  کرتے  رہے۔

اس مباحثے میں میزبان کا فریضہ فاکس نیوز کے سینئر صحافی کرس والیس نے ادا کیا۔ ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ہونے والے ٹی وی مباحثے میں صدر ٹرمپ اور جوبائیڈن نے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بھرپور کوشش کی۔

امریکی صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے ٹرمپ سے مباحثے میں انشاءاللہ بھی کہا

مباحثے کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں جج منتخب کرنے کا اختیار ہے لیکن جوبائیڈن نے انہیں جھوٹا قرار دے دیا۔مباحثے کے دوران میزبان نے بار بار مداخلت کر کے فریقین کو ضابطے کے مطابق جوابات دینے کی تلقین کی، جوبائیڈن نے مباحثے کے دوران ایک موقع پر انشاء اللہ بھی کہا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار جوبائیڈن کی گفتگو میں مخل ہونے کی کوشش کی جس پر میزبان نے انہیں خاموش کرایا، جوبائیڈن سے دوبدو سوالات پر بھی میزبان کو انہیں کئی بار روکنا پڑا۔

ٹرمپ نے جوبائیڈن کے بیٹے پر کرپشن کے الزامات لگائے

ٹرمپ نے جوبائیڈن کے بیٹے پر کرپشن کے الزامات لگائے، بائیڈن نے الزامات مسترد کر دیے، میزبان نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ آپ نے 2016 اور 2017 میں فیڈرل انکم ٹیکس کی مد میں صرف 750 ڈالر ادا کیے، ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’میں نے کئی لاکھ ڈالر ادا کیے، میں نے تین کروڑ 80 لاکھ ڈالر ایک سال اور دو کروڑ 70 لاکھ ڈالر دوسرے سال میں ادا کیے۔‘ جو بائیڈن نے انھیں چیلنج کیا کہ وہ اپنا ٹیکس ظاہر کریں، ٹرمپ نے کہا آپ انھیں دیکھ لیں گے جب آڈٹ ختم ہو جائے گا۔

دونوں امیدواروں نے نسل پرستی کے سوال کا گول مول جواب دیا

سفید فام نسل پرستی اور مسلح گروہوں کی حمایت یا مخالفت کے بارے میں دونوں امیدواروں سے پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا جو کچھ ہو رہا ہے وہ بائیں بازو کی جانب سے ہے، دائیں بازو کی طرف سے نہیں۔ تاہم جو بائیڈن اور کرس والیس دونوں نے صدر ٹرمپ پر سفید فام نسل پرستوں کی مذمت کرنے کے لیے زور دیا تھا۔

 ٹویٹر صارفین کا خیال تھا کہ ٹرمپ نے مکمل طور پر سفید فام نسل پرستوں کی مخالفت نہیں کی۔ ووٹر پینل کا اس بات پر اتفاق تھا کہ دونوں امیدواروں نے نسل پرستی کے سوال کا گول مول جواب دیا۔

ٹرمپ صحت سے متعلق مسائل پر جھوٹ بولتے رہے ہیں

جوبائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ کے پاس ہیلتھ کیئر کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ٹرمپ صحت سے متعلق مسائل پر جھوٹ بولتے رہے ہیں، جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ بارک اوبامہ کا ہیلتھ کیئر پلان بے کار اور بہت مہنگا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ہماری حکومت نے عوام کی جانیں بچائی ہیں، ہم نے کورونا وائرس کے خلاف بہترین کام کیا مگر جعلی میڈیا نے اسے رپورٹ نہیں کیا۔

میری جیب میں ہر وقت ماسک موجود ہوتا ہے، ضرورت ہوتی ہے تو پہن لیتا ہوں

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ صرف ماسک پہننے سے وائرس کا خطرہ آدھا رہ جاتا ہے مگر ٹرمپ نے اس پر توجہ نہیں دی، اگر فروری کے مہینے میں ماسک پہننے کی پابندی عائد کی جاتی تو ایک لاکھ زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ میری جیب میں ہر وقت ماسک موجود ہوتا ہے، ضرورت ہوتی ہے تو پہن لیتا ہوں۔

جوبائیڈن نے 47 سال سے امریکا کے لیے کچھ بہتر نہیں کیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن نے 47 سال سے امریکا کے لیے کچھ بہتر نہیں کیا، کاروبار بند کر کے ڈیموکریٹ سمجھ رہے ہیں یہ ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں، در حقیقت یہ لوگ ہمیں نہیں امریکی عوام کو نقصان پہنچا رہے ہیں، عوام اپنے بچوں کو اسکول جاتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ جوبائیڈن نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بچوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دیں، پہلے کرونا وبا پر قابو پائیں پھر معیشت کو دیکھیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کے ٹاکرے میں یہ مباحثے کا مرحلہ سخت ترین سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں صرف صدارتی امیدوار ہی آمنے سامنے ہوتے ہیں۔

امریکی صدارتی انتخاب کے سلسلے میں تین مباحثے ایجنڈے کا حصہ ہیں، اس سلسلے کا دوسرا اور تیسرا مباحثہ اکتوبر میں ہوگا۔ 15 اکتوبر کو فلوریڈا کے شہر میامی میں جب کہ 22 اکتوبر کو ٹینیسی کے شہر نیش وِل میں مباحثہ منعقد ہوگا۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay