پشاور: مدرسے میں دھماکا، 7 شہید، 112 زخمی

خیبر پختون خوا کے دارالخلافہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مدرسے میں دھماکہ ہوا، جس سے ہال میں موجود 7 افراد شہید اور 112 زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق مسجد کے مرکزی ہال میں دھماکے کے وقت مولانا رحیم اللّٰہ درس دے رہے تھے، درس میں ایک ہزار سے زائد مدرسے کے طلبا ءموجود تھے۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکا ایک بیگ میں موجود ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قبل ایک مشکوک شخص مسجد کے ہال میں داخل ہوا تھا، جس کے پاس ایک بیگ تھا جو اس نے ہال میں طلباء کے درمیان رکھ دیا تھا۔

دھماکے سے مسجد کے ہال میں گڑھا پڑگیا جبکہ چھت اور دیواروں کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے سے مسجد کی محراب والی دیوار کا کچھ حصہ گر گیا، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیموں نے دھماکے کے مقام پر پہنچ کر امدادی کام انجام دیئے، زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا۔ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق زخمی ہونے والے متعدد بچوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے حکام نے 70 زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی بھی تصدیق کی ہے جن میں سے 40 بچے ہیں۔2 زخمی خیبرٹیچنگ اسپتال اور 2 حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیئے گئے ہیں۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے ترجمان کے مطابق شہید افراد میں کوئی بچہ شامل نہیں ہے، 5 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے، شہید افرادکی عمریں 30 سال سے زائد ہیں۔

پشاور پولیس کے مطابق دھماکا ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا جبکہ دھماکا خیز مواد بیگ میں رکھ کر مدرسے لایا گیا تھا۔آئی جی خیبر پختون خوا ثناء اللّٰہ عباسی نے دھماکے میں 4 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ الرٹ تھا، دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق دھماکا آئی ای ڈی کا ہے، جس کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

سی سی پی او پشاور محمد علی گنڈا پور کے مطابق دھماکا مسجد کے مرکزی ہال میں ہوا، بارودی مواد 5 سے 6 کلو وزنی تھا۔ سی سی پی او پشاور کا مزید کہنا ہے کہ مدرسے سے متعلق کوئی تھریٹ نہیں تھی، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ایک عینی شاہد کے مطابق مدرسے میں دوسرا پیریڈ شروع ہونے والا تھا کہ اچانک دھماکا ہوا، دھماکے کے وقت 1 ہزار سے 12 سو افراد مدرسے میں موجود تھے۔

اے آئی جی بم ڈسپوزل اسکواڈ شفقت ملک کے مطابق پولیس نے دھماکے کی جگہ سے شواہد جمع کر کے فرانزک لیب بھیج دیئے ہیں، دھماکا بظاہر ٹی این ٹی کا لگتا ہے تاہم اس کی تصدیق فرانزک سے ہو سکے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دھماکے میں 5 کلو اعلیٰ کوالٹی کا بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے، دھماکے کا طریقہ کسی منظم گروپ کی کارروائی لگتا ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay