سالِ نو

تلخ یادوں، گزری باتوں، غم اور پریشانیوں کو بھلا کر۔۔۔
ایک نئے سفر کے آ غاز کا سال !!

 

نیا سال آیا ہے،
ساتھ امّید نئی لایا ہے
اے کاش۔۔“
ہر دن ہو اسکا ایسا
چاروں سوُ بکھیرتا،
خوشبوؤں کے جیسا

 

سندھی ہوں، یا بلوچی
ہوں پنجابی یا پختون
ہیں مساوی، اہم و لازم
وطن کو سہارتے،، یہ مضبوط ستون

 

دکھُ، سکھُ اپنے سانجھے،
ایک ہی باغ کے پھول ہیں ہم
مل کر رہیں،
تو مضبوط چٹان
ورنہ اڑُتی،،
دھول ہیں ہم

 

نفرتیں،، عداوتیں
بغض اور کینہ
کیا خوب گزرے زندگی،
گر ان سب کے بنِ ہو جینا

 

ملک و قوم کی ترقی
ہو جہدِمسلسل،، ایک عزم ہمارا
جوڑے ہوئے ہے ہم کو
رشتہ انسانیت کا،
پیارا،، پیارا

 

ہاتھوں میں تھامے ہاتھ،
ہو جانبِ منزل سفر
وجود تسلیم ہوں،
ایک دوسرے کے حقوق بھی
مگر۔۔۔۔“
نا، کام ہوں یہ
تحت مصلحتوں کے
اور نہ ہی کر کے،
دلوں پہ جبر!

 

پہنچے گی کوئی تکلیف
نہ کسی کو ہماری ذات سے
چلو آؤ کریں یہ وعدہ،
آج ہم اپنے آپ سے!

***
شاعرِامن
کاشف شمیم صدیقی

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay