کراچی، پولیس فائرنگ نوجوان جاں‌ بحق، لواحقین نے مقابلہ جعلی قرار دیدیا

کراچی: شہر قائد کے علاقے سائٹ ایریا میں پولیس فائرنگ سے جاں بحق نوجوان کے لواحقین نے مقابلہ جعلی قرار دے دیا۔

گزشتہ روزکراچی کے علاقے سائٹ ایریا حبیب چورنگی کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان ہلاک ہوگیا تھا، مقتول سلطان نذیر کے اہلخانہ نے مقابلے کو جعلی قرار دیا ہے، لواحقین کے احتجاج کے دوران ایس ایچ او سائٹ اے محمد ایاز تھانے سے فرار ہوگئے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ مقتول سلطان نذیر بی کام پرائیویٹ کا طالب علم تھا، وہ گزشتہ روز سائٹ ایریا میں رشتے دار کے سوئم سے واپس گھر جارہا تھا۔

کراچی کے سائٹ ایریا میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے شہری کے اہل خانہ نے پولیس تھانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اہل خانہ کے مطابق سلطان نے گزشتہ رات ایک جنازے سے واپسی پر آن لائن بائیک سروس بک کی، راستے میں پیٹرول ختم ہوگیا تو سلطان اور رائیڈر موٹرسائیکل لیکر پیٹرول پمپ جارہے تھے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس دوران فائرنگ ہوئی تو سلطان اور رائیڈر موٹر سائیکل چھوڑ کر بھاگے تو پولیس نے رائیڈر کو گرفتار کیا اور اسے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

سینیئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کیماڑی کے مطابق سلطان نذیر کے واقعے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی بنا دی، کمیٹی ایس پی بلدیہ کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔

سلطان نذیر کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ہمیں پولیس کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹی پر اعتماد نہیں لہٰذا تحقیقاتی کمیٹی میں ہمارے عمائدین کو بھی شامل کیا جائے۔

ایس ایس پی کے مطابق واقعے کی شفاف انکوائری عمل میں لائی جائے گی، اہل کار ملوث ہوئے تو گرفتار کیا جائے گا۔

دوسری جانب مبینہ مبینہ پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمہ مبینہ مقابلے میں مارے گئے سلطان نذیر کے چچازاد بھائی سلیم اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں کانسٹیبل شبیر احمد اور کانسٹیبل جہانگیر کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay