کنٹرول لائن کی دونوں جانب اوردنیا بھر میں مقیم کشمیری کل یوم حق خودارادیت منارہے ہیں

کنٹرول لائن کی دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری کل یوم حق خودارادیت اس عہد کی تجدید کے ساتھ منارہے ہیں تا کہ تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھا جائے ۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پانچ جنوری 1949ء کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو ان کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے ان کے حق کی حمایت کی گئی تھی ۔

اس دن دنیا بھر میں ریلیوں، سیمیناروں اورکانفرنسوں سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیاجائے گا جس کا مقصد اقوام متحدہ کو یہ یاد لانا ہے کہ اسے مسئلہ کشمیر کو اپنی متعلقہ قراردادوں پرعملدرآمد کے تحت حل کرناچاہیے اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانی چاہیے ۔

ادھر حریت رہنمائوں اورتنظیموں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پرزوردیا ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دلانے کا اپنا وعدہ پوراکریں۔

حریت رہنما غلام احمد گلزار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک خط میں کہا کہ کشمیر کے عوام غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ کشمیر میں شروع کی گئی لسانی بنیادوں پر ظالمانہ نسل کشی روکنے کے لئے قانونی مداخلت چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دس لاکھ سے زائد فوج موجود ہے جسے تمام کالے قوانین کی پشت پناہی اور لوگوں کو قتل کرنے اور ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی مقبول آواز دبانے کا لائسنس حاصل ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay