پاک بحریہ کی بحری مشق امن21

تحریر: فیاض عباسی

       دنیا بھر کے سمند رقدرت کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہیں جو تقریباً 360ملین مربع کلو میٹر پر محیط ہیں اور زمین کی کم و بیش 70فیصد سطح پر پھیلے ہوئے ہیں۔ سمندر میں پائے جانے والے قیمتی وسائل میں گیس، تانبا، لوہا، کوبالٹ، مختلف قسم کی دھاتیں اور خام تیل قابل ذکر ہیں۔قدرتی نعمتوں سے مالا مال سمندر دنیا کے مختلف خطوں کو ملانے کا سستا اور بہترین ذریعہ بھی ہیں۔

سمندروں کی افادیت کے پیش نظر جب نوعِ انسانی نے سمندروں سے مستفید ہونے کی طرف توجہ دی تو ان وسائل کے ساتھ ساتھ انہیں بحری سفر کے بارے میں بھی آگہی حاصل ہوئی اور یوں سمندروں میں سفر کے ابتدائی خدوخال تشکیل پائے۔

ابتداء میں بحری سفر اور بحری وسائل سے آگہی محدود نوعیت کی تھی جس نے تجارتی بحری سفر اور بحری تحقیق کی ترقی کا طویل سفر طے کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دو ہزار سال قبل بحری تجارت کی ابتدائی شکل وجود میں آئی۔ بحری آمدورفت کے آغاز کے ساتھ ہی سمندروں میں لوٹ مار کے واقعات رونما ہونا شروع ہو گئے۔ جیسے جیسے بحری تجارت نے ترقی کی منازل طے کیں اور بحری وسائل کی دریافت میں پیش رفت نے قدم آگے بڑھائے ویسے ویسے سمندروں میں خطرات نے جنم لینا شروع کیا۔بحری امن کے دشمنوں نے بحری قزاقی، بحری دہشت گردی اور سمندروں میں غیر قانونی نقل و حمل جیسی منفی سر گرمیوں کو اپنا ہتھکنڈہ بنایا۔

 سماج دشمن عناصر دنیا میں تیزی کے ساتھ پھیلتے گئے اور خود کو اس قدر منظم کر لیا کہ بحری امن کے لئے ایک مستقل خطرہ بن گئے۔ آج کے دور میں کئی بحری آماجگاہیں ان قزاقوں کا مسکن ہیں جن میں خلیج عدن، صومالیہ اور نائیجریا کے ساحلی خطے، آبنائے ملاکا اور بحرِ ہند شامل ہیں۔

       مندرجہ بالا منظر نامے اور موجودہ جدیدٹائم چیلنجز کے پیش نظر کئی اقوام اپنی تہی کاوشیں کر چکی ہیں کہ بحری قزاقی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے لیکن ان کوششوں کے نتیجے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ انفرادی حیثیت میں کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کے بعداقوام عالم میں یہ احساس بیدار ہو چکا ہے کہ کوئی بھی قوم بحری قزاقی، سمندری دہشت گردی اور سمندری راستوں کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ کو اکیلے نہیں روک سکتی۔

عالمی معاشی نظام کو بحری خطرات سے محفوظ بنانے اورقومی بحری وسائل کے تحفظ کے لئے سمندروں کے حامل ممالک ایک سوچ اور متفقہ لائحہ عمل کو وجود میں لانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہورہے ہیں اور بحری فوج ہونے کے ناطے بحری امن و استحکام کو یقینی بنانے کے سلسلے میں عالمی بحری افواج پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

       پاک بحریہ بحرِہند خصوصاً بحیرہ عرب کی اقتصادی اور جغرافیائی اہمیت کا مکمل ادراک رکھتی ہے۔ خطے کے اور عالمی بحری امن و استحکام کو یقینی بنانے کے سلسلے میں پاک بحریہ نہ صرف علاقائی بحری افواج کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کئے ہوئے ہے بلکہ بحری سکیورٹی کے قیام کے لئے کی جانے والی عالمی کوششوں میں بھی بھر پور کردار کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں دو طرفہ، سہ فریقی اور کثیر الملکی بحری مشقوں کا انعقاد پاک بحریہ کا خاصا ہے۔

موجودہ مختلف النوع بحری چیلنجز سے نمٹنے کے لئے یکجاحکمت عملی کی تشکیل،متفقہ سوچ کی نمواورمشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے سلسلے میں پاک بحریہ کی جانب سے ہر دو سال بعد منعقد کی جانے والی بحری مشق ”امن“نہایت اہمیت کی حامل ہے۔      پاک بحریہ نے سال 2007میں ایک لائق تحسین قدم اٹھایا جسے بحری مشق ”امن“ کا نام دیا گیا۔

امن مشقوں کے سلسلے کی پہلی مشق مارچ 2007میں منعقد کی گئی جس میں دنیا بھر سے 28 ممالک کی بحری افواج نے بحری جہازوں، ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز، دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور مبصرین کے ساتھ حصہ لیا۔پہلی امن مشق میں عالمی افواج کی حوصلہ افزاء شرکت کے نتیجے میں پاک بحریہ نے مشق کے اس سلسلے کو ہر دو سال بعد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح بحیرہ عرب میں سال2013,2011,2009،  2017اور2019 میں بالترتیب دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں اورچھٹی امن مشق کا انعقاد کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر مشق میں شریک بحری افواج کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا گیا اور پاک بحریہ کے اس اقدام کو عالمی سطح پر خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔

       پاک بحریہ کی چھٹی امن مشق 8تا 12فروری2019 بحیرہ عرب میں منعقدہوئی جس میں 6 4 ممالک نے اپنے جہازوں، ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹرز، اسپیشل آپریشنز فورسز میرینز،دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور مبصرین سمیت شرکت کی۔اس سلسلے کی ساتویں کڑی امن 2021 فروری 21 میں منعقد کی جا رہی ہے جس میں چا لیس سے زا ئد ممالک کی شرکت متوقع ہے۔

       بحری مشق ”امن2021“ دو مرحلوں ہاربراور سی فیز پر مشتمل ہو گی۔ ہار برفیز کے دوران مشق میں شریک بحری افواج کو ایک دوسرے کے ساتھ میل جول بڑھانے کے بھر پور مواقع فراہم کئے جائیں گے تا کہ یہ افواج سی فیز کے دوران اپنی صلاحیتوں اور مشترکہ آپریشنز کا بھر پور مظاہرہ کر سکیں۔

 ہاربرفیز کے دوران منعقدہ سر گرمیوں میں مختلف ممالک کے بحری جہازوں کے دورے اورمیرینز ٹیموں کی جانب سے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مظاہرے شامل ہوں گے۔ انٹر نیشنل میری ٹائم کانفر نس کا انعقاد  بھی مشق کی اہم سرگرمیوں میں شامل ہے۔

 مشق کا اہم ترین مرحلہ مشق کا سی فیزہے جس میں عالمی بحری افواج کے جہاز بحیرہ عرب میں آہنی دیوار بنا کر انسانیت کے دشمن کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ انسانیت کے مشترکہ ورثے ”سمندر“ میں قیام امن کے لئے ہم بلا تفریق رنگ نسل متحد اور یکجا ہیں۔

       چالیس سے زائد ممالک کی بحری افواج کے آفیسرز و جوانوں، جہازوں، ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹرز، اسپیشل آپریشنز فورسز، دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور عالمی مبصرین کی میزبانی اور اس قدر بڑی بحری مشق کا انعقاد اورایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔دنیا بھر کی مختلف ثقافتوں اور روایات کے حامل افراد کی روایتی میزبانی پاکستان کے حقیقی تشخص کو اُجاگرکرنے اور اس مشق کے دوران قائم ہونے والی اعتماد سازی یقینا عالمی بحری امن خصوصاً بحرِہند میں امن و سلامتی کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب کرے گی۔

 بحری مشق امن کے مسلسل انعقاد سے جہاں بحری امن و استحکام کے حصول کے لئے متفقہ سوچ اور عالمی کاوشوں کو یکجا کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا ہوگا وہاں پاکستان کے حقیقی تشخص کو اُجاگر کرنے میں یہ مشقیں مدد گار ثابت ہوں گی۔

 ان مشقوں میں عالمی افواج کی بھر پور شرکت اس امر کی بھی دلیل ہے کہ دنیا کی جدید، باصلاحیت اور طاقتور ممالک خطے میں قیام امن کے سلسلے میں کی جانے والی پاک بحریہ کی کاوشوں کوثمر آور مانتے ہیں اور بحری امن و استحکام کے لئے پاک بحریہ کی ان کاوشوں کا بھر پور ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay