جوبائیڈن امریکاکے46ویں صدربن گئے

ڈیمو کریٹک ریپلکن پارٹی کے جوبائیڈن امریکہ کے 46ویں صدر بن گئے۔

 امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ان سے حلف لیا، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی، یہ امریکہ کی 160 سالہ تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ سبکدوش ہونے والے امریکی صدر نےنئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی۔

 کیپیٹل ہل میں انتہائی سخت سیکیورٹی حصار میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، ڈیمو کریٹک ریپبلکن پارٹی کے جوبائیڈن نے بطور 46ویں امریکی صدر کا حلف اٹھا لیا، امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹ نے ان سے حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریب میں سابق امریکی صدور باراک اوباما اور بل کلنٹن سمیت سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ جو بائیڈن اس سے قبل 6 بار سینیٹر منتخب ہوئے، وہ 2009ءمیں امریکہ کے 47ویں نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔

 حلف اٹھانے کے بعد نومنتخب امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج شخصیات کی نہیں جمہوریت اور جمہوری عمل کی فتح ہوئی ہے، مجھے اب امریکہ اور امریکی قوم کو متحد کرنا ہے، تاریخ، عقیدے اور دلیل کے ساتھ ہم امریکہ کو متحد کریں گے، میں پورے امریکہ کا صدر ہوں، کوئی تفریق نہیں کروں گا، ہم سب ایک مرتبہ پھر متحد ہو کر امن قائم کر سکتے ہیں، ہمیں رنگ و نسل، تعصبات، مذہب سے بالاتر ہو کر ایک عظیم قوم بننا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی کے پہلے دو صدور کی ملک کیلئے گرانقدر خدمات کو سراہتا ہوں، امریکہ عظیم لوگوں کا ملک ہے، ہمارے درمیان بہترین روابط ہیں، امریکہ کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے مل کر ان کا مقابلہ کریں گے۔

جوبائیڈن نے کہا کہ میں امریکی آئین کی طاقت پر یقین رکھتا ہوں، آج پورے امریکہ کو پھر سے متحد کرنے کا دن ہے، ہم نے جنگوں اور مشکل حالات کا مل کر مقابلہ کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کورونا نے ایک سال میں امریکہ میں جتنی جانیں لیں اتنا نقصان ہمارا جنگوں میں نہیں ہوا، کورونا کے باعث امریکہ میں بیروزگاری بڑھی، معیشت متاثر ہوئی، کورونا وباءکے دوران ہلاک ہونے والے 4 لاکھ امریکیوں کے دکھ کا احساس ہے، ہم متحد ہو کر دہشتگردی اور کورونا جیسی مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں، ہمیں اختلافات کو جنگ میں نہیں بدلنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جمہوریت پر حملے، خطرناک وباءاور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، آج میری روح قومی اتحاد اور نسلی اتحاد کے مقصد سے جڑی ہے، یقین ہے امریکہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔ نسلی امتیاز کے خاتمے کا خواب اب مزید ٹالا نہیں جا سکتا۔

واضح رہے کہ حلف برداری کی تقریب کے موقع پر واشنگٹن ڈی سمیت امریکہ کی تمام پچاس ریاستوں میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے، واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے 25 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے تھے، کیپیٹل ہل جانے والے راستوں پر آہنی باڑیں لگا دی گئی تھیں جبکہ چہرے ڈھانپے مسلح اہلکار امریکی دارالحکومت کی گلیوں میں تعینات کئے گئے تھے، واشنگٹن ڈی سی کی ہیلی کاپٹر کی مدد سے بھی نگرانی کی جا رہی تھی۔

Junior - Taleem Aam Karaingay - Juniors ko Parhaingay